0
Wednesday 12 Feb 2014 15:33

لاپتہ افراد کو زمین کھا گئی یا آسمان، لگتا ہے ساری عمر پتہ نہیں چلے گا، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

لاپتہ افراد کو زمین کھا گئی یا آسمان، لگتا ہے ساری عمر پتہ نہیں چلے گا، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
اسلام ٹائمز۔ پشاور ہائیکورٹ میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے آٹھ لاپتہ افراد کی فہرست عدالت میں پیش کر دی، چیف جسٹس فصیح الملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کو زمین کھا گئی یا آسمان،یوں لگتا ہے کہ ساری عمر گزر جائے گی لیکن لاپتہ افراد کا پتہ نہیں چلے گا۔ منگل کو 101لاپتہ افراد کے کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس فصیح الملک اور جسٹس اکرام اللہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل فاروق شاہ نے عدالت میں 8لاپتہ افراد کی فہرست پیش کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس فصیح الملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کو زمین کھا گئی یا آسمان،یوں لگتا ہے کہ ساری عمر گزر جائے گی لیکن لاپتہ افراد کا پتہ نہیں چلے گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کو مذاق بنا دیا گیا ہے کیا یہاں جنگل کا قانون ہے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ 7 ماہ سے ٹاسک فورس کا سنتے آرہے ہیں۔ بتایا جائے کہ اس کی کارکردگی کیا ہے۔لاپتہ افراد کے کیس کی سماعت کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔
خبر کا کوڈ : 350867
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب