0
Thursday 3 Apr 2014 17:34

سندھ اسمبلی کی اسلامی نظریاتی کونسل کیخلاف قرارداد آئین سے انحراف ہے، مولانا فضل الرحمن

سندھ اسمبلی کی اسلامی نظریاتی کونسل کیخلاف قرارداد آئین سے انحراف ہے، مولانا فضل الرحمن
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام (ف) پاکستان کے مرکزی امیر اور پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے سندھ اسمبلی کی اسلامی نظریاتی کونسل ختم کرنے کی قرارداد پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جمعیت علماء اسلام سندھ کے سیکرٹری اطلاعات اور ترجمان محمد اسلم غوری سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے، جسے 1973ء کے آئین میں ایک اہم حیثیت حاصل ہے لیکن افسوس کہ سندھ اسمبلی کے ممبران نے اسلامی نظریاتی کونسل کیخلاف نہیں بلکہ اُس دینی، اسلامی سفارشات کو جو کہ قرآن و سنت کے عین مطابق ہوئی ہیں، انہیں رد کرکے بانیان پاکستان کی روحوں کو بے چین کیا ہے جو پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ اس ملک میں بندوق کے ذریعے اسلام نافذ کرنے کی بات کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ اس جمہوریت کو نہیں مانتے اور یہی لوگ جو آج اسلامی نظریاتی کونسل کو تحلیل کرنے کی بات کرتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ بندوق کی نالی پر شریعت نافذ ہو رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ قوم کو سوچنا چاہیئے کہ اس ملک کو کون لوگ انتہاء پسندی کی طرف دھکیل رہے ہیں، سندھ کو باب الاسلام کہا جاتا ہے اور آج اس سندھ کی اسمبلی نے اسکے اسلامی تشخص کو مجروح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دُکھ اور افسوس کی بات ہے کہ وہ لوگ جو اپنے آپ کو اسلامی جمہوری سوچ کے داعی سمجھتے ہیں، اُن کے نمائندوں نے اس بل کو پیش کیا اور اسکی تائید کی۔ مرکزی امیر جے یو آئی کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ سندھ حکومت، مدارس اور دینی حلقوں کیخلاف کھل کر ایک فریق کی شکل میں سامنے آ رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بجائے نان ایشوز پر بیان دیکر اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانا چاہتے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ قوم کو بتائیں یہ سب کچھ کس کے اشارے پر کر رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 368714
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب