0
Thursday 14 Oct 2010 14:36

اسرائیل کی صہیونیستی رژیم سرمایہ دارانہ نظام کے جھوٹ اور فریبکاری کا واضح ثبوت ہے، محمود احمدی نژاد

اسرائیل کی صہیونیستی رژیم سرمایہ دارانہ نظام کے جھوٹ اور فریبکاری کا واضح ثبوت ہے، محمود احمدی نژاد
اسلام ٹائمز[مانیٹرنگ ڈیسک]- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد جو ان دنوں لبنان کے دورے پر ہیں، نے گذشتہ رات بیروت کے جنوبی علاقے ضاحیہ میں عظیم عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔ انہوں نے اس خطاب میں کئی موضوعات پر روشنی ڈالی۔ صدر محمود احمدی نژاد نے اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم کو مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے جھوٹے اور دھوکہ و فریب پر مبنی ہونے کا واضح ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا:
"مغربی جاہ طلب قوتوں کی جانب سے اسرائیل کی ظالم صیہونیستی رژیم کی اندھی حمایت سرمایہ دارانہ نظام کے جھوٹ اور فریب کا واضح ثبوت ہے، ان قوتوں نے اسرائیل کو دنیا پر اپنے قبضے کا ذریعہ بنا رکھا ہے اور اسے جوہری ہتھیاروں سے لیس کر رکھا ہے۔ اسرائیل کی حامی قوتیں خدا، انبیای الہی، آسمانی کتابوں اور انسانی مقدسات کی توہین کو تو جائز سمجھتی ہیں لیکن ظلم و جور کے مقابلے میں مزاحمت اور اسرائیل کے غاصبانہ وجود اور اسکے جرم و جنایت
پر اعتراض کو ناقابل معافی گناہ ظاہر کرتی ہیں۔ البتہ ملتوں کی بات الگ ہے، مغربی ممالک کے عوام بھی صیہونیستی رژیم اور اسکے پلید افکار سے بیزار ہیں اور جہاں تک ممکن ہو اسکا اظہار بھی کرتے ہیں"۔ 

جاہ طلب استکباری قوتیں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں، سب کی دشمن ہیں:
ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ استکباری قوتیں کئی عشروں سے اپنی مادی طاقت اور اسلحے کے بل بوتے پر مشرق وسطی پر قبضے کی کوششوں میں مصروف ہیں کیونکہ وہ اس خطے کو تمام دنیا پر قبضے کی چاپی سمجھتے ہیں، ان کیلئے مسلمان، عیسائی اور یہودی میں کوئی فرق نہیں اور جو بھی انکے پلید عزائم کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرے اسے نیست و نابود کرنے کے درپے ہیں۔ صدر احمدی نژاد نے کہا کہ استکباری قوتیں مشرق وسطی میں بسنے والی قوموں اور انکی تہذیب و تمدن کیلئے ذرہ بھر احترام قائل نہیں۔
دشمن لبنان اور شام کے تعلقات کو خراب کرنا چاہتے ہیں:
اسلامی جمہوریہ
ایران کے صدر نے دوسروں کے درمیان اختلاف اور تفرقہ ڈالنے کو استکبار کا ہمیشہ کا ہتھکنڈہ قرار دیا اور کہا کہ عالمی استکباری قوتیں شام اور لبنان کے درمیان دشمنی ڈالنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام اور لبنان کے عوام مختلف مذاہب ہونے کے باوجود صدیوں سے امن اور دوستی کے ساتھ ایکدوسرے کے ہمراہ زندگی گزار رہے ہیں اور اب دشمن ان میں اختلاف ڈالنے کے درپے ہے۔ محمود احمدی نژاد نے لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کو اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جلد از جلد انکے حقیقی قاتلوں کو سامنے لایا جائے۔ 

نائن الیون کے حقیقی مجرموں کی پہچان ضروری ہے:
ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ 11 ستمبر کے تلخ واقعات میں ملوث افراد کی پہچان انتہائی ضروری ہے اور اس کام کیلئے ایک آزاد تحقیقی کمیٹی بنائی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا 11 ستمبر کے افسوسناک حوادث میں ملوث مجرموں کی شناسائی کیلئے ایک آزاد اور
غیرجانبدار تحقیقی ٹیم کی تشکیل تمام اقوام عالم کا مطالبہ ہے۔ صدر احمدی نژاد نے امریکی حکام کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے نائن الیون کے بارے میں آزادانہ تحقیق کی اجازت نہ دی تو انکی اپنی عزت خطرے میں پڑ سکتی ہے اور اس سازش میں انکے اپنے ملوث ہونے کے امکان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
صدر احمدی نژاد نے کہا کہ امریکہ نے 11 ستمبر کے بہانے افغانستان اور عراق پر حملہ کر کے لاکھوں افراد کو موت کی گھاٹ اتار دیا اور پاکستان جیسے دوسرے ممالک کو بھی ناامنی کا شکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان، عراق اور پاکستان میں امریکی سرگرمیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکا کا مقصد نائن الیون میں ملوث مجرموں کو سزا دینا نہیں بلکہ نائن الیون کے بہانے اپنے استکباری مقاصد کی تکمیل ہے۔
مسئلہ فلسطین کا واحد حل فلسطینی عوام کے حق حاکمیت کو قبول کرنے میں پوشیدہ ہے:
صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حل اور خطے میں پایدار
امن کا واحد راستہ فلسطینی عوام کے حق حاکمیت کو قبول کرنے میں پوشیدہ ہے، مسئلہ فلسطین صرف اور صرف فلسطینی جلاوطن افراد کی وطن واپسی کے بعد ہی امکان پذیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صیہونیستی حکام کے فائدے میں ہے کہ وہ جہاں سے آئے تھے وہیں واپس چلے جائیں اور سرزمین فلسطین کو اسکے حقیقی عوام کے حوالے کر دیں۔ صدر احمدی نژاد نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی حکام ایسا نہیں کرتے تو وہ فلسطینی عوام اور دنیا کی آزاد قوموں کے غیض و غضب میں جل کر راکھ ہو جائیں گے۔
اقوام متحدہ حقیقی معنوں میں اقوام متحدہ بن جائے اور چند جاہ طلب ممالک کا پلیٹ فارم نہ بنے:
صدر محمود احمدی نژاد نے کہا اقوام متحدہ کے اعلی حکام فلسطین کو نظرانداز کرنا ختم کریں اور اسرائیل کی جانب سے قبضے اور غصب کی پالیسیوں کا جواز فراہم کرنے کی بجائے فلسطینی عوام کے حق حاکمیت کو جائز قرار دیں اور اسرائیل کو مجبور کریں کہ وہ عالمی قوانین کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا
کہ اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ دنیا کے تمام ممالک کی نمائندہ ہو اور صرف چند جاہ طلب استکباری ممالک کی نمائندگی کرنے سے گریز کرے۔ 

نیا عالمی نظام وسیع، انسانیت پر مبنی اور عادلانہ ہونا چاہئے:
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے تاکید کی کہ نیا عالمی نظام وسیع، انسانی اصولوں پر مبنی اور عادلانہ ہونا چاہئے تاکہ اسکی بنیاد پر دنیا میں پایدار امن برقرار ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جسکے تحت تمام ممالک اور قومیں این پرامن فضا میں بیٹھ کر عالمی مسائل کو حل کر سکیں، صرف اسی صورت میں حقیقی انسانی اقدار محقق ہو سکتی ہیں۔
صدر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ خداوند متعال کے ارادے سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرزندان میں سے ایک فرزند حضرت عیسی علیہ السلام اور دوسرے صالح افراد کے ہمراہ دنیا کو گلستان بنا دیں گے، مستقبل ہمارا ہے اور ہمارے دشمنوں کیلئے کوئی جگہ نہیں۔
خبر کا کوڈ : 40334
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب