0
Monday 22 Sep 2014 13:28
داعش کی وجہ سے مسلمان غیر محفوظ

جرمنی میں انتہاء پسندی کے خلاف مسلمانوں کی ریلی، دعائیہ اجتماعات

جرمنی میں انتہاء پسندی کے خلاف مسلمانوں کی ریلی، دعائیہ اجتماعات
اسلام ٹائمز۔ دارالحکومت برلن سمیت جرمنی بھر میں مسلمانوں نے جمعہ کے روز یومِ دعا منایا اور مساجد کے اجتماعات میں شرکت کی، یہ دن اسلامی انتہاء پسندی کی مذمت اور اس عقیدے کے ردّعمل کے طور پر منایا گیا تھا، جس کے تحت مساجد پر خوفناک حملے دیکھنے میں آئے ہیں۔ جرمنی کی تقریباً دو ہزار مساجد میں، مسلمان نفرت اور ناانصافی کے خلاف ہیں، کے زیرِعنوان یہ پروگرام منعقد ہوا، جس کا اہتمام جرمنی کے چار اہم اسلامک گروپس نے کیا تھا۔ اس پروگرام میں حکومتی وزراء، قانون ساز، مسیحی اور یہودی رہنما اور شہر کے میئر بھی شریک ہوئے۔ برلن میں منعقدہ یومِ دعا میں ہزاروں افراد نے کرزبرگ کے علاقے میں کھلے آسمان تلے نمازِ جمعہ ادا کی، جہاں ترک اور عرب کمیونٹی کی اکثریت آباد ہے۔ نماز کےبعد مقررین نے برداشت کے حق میں اور پُرتشدد جہاد کی مخالفت میں حاضرین سے خطاب کیا۔

پورے جرمنی میں قائم مساجد میں ایک بیان پڑھ کر سنایا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح لوگ اللہ کا نام لے کر لوگوں پر ظلم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ جرمنی میں قائم دو ہزار سے زائد مساجد نے دیگر تمام مذاہب کے پیرو کاروں کو دعوت دی تھی کہ نماز جمعہ کے اجتماعات میں شریک ہوں تاکہ داعش سے لاتعلقی کا اجتماعی اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوان مسلمانوں کے داعش سے متاثر ہونے کا تاثر دور ہو سکے۔ واضح رہے کہ اس پروگرام کا مقصد اس تاثر کو دور کرنا تھا، جو مغرب میں میڈیا کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے کہ مسلمان نوجوان داعش یا اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کے گروپ میں شامل ہو رہے ہیں اور انتہا پسندانہ خیالات کے ساتھ یورپ واپس آ رہے ہیں۔ اب تو جرمنی میں یہ بات حکومتی سطح سے بھی کہی جا رہی ہے کہ داعش میں جانے والے نوجوان داخلی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

چند روز قبل اس سلسلے میں جرمن مسلمانوں کی مرکزی کونسل کے سربراہ ایمن مذائق نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر اسلام کی ترجمانی نہیں کرتے ہیں، ایسے جرائم پیشہ عناصر کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے مسلمانوں کی مختلف تنظیموں اور گروپس نے بھی اس حوالے سے پُر امن ریلیوں کا انعقاد کیا۔ جرمن حکام کا خیال ہے کہ اب تک جرمنی کے 400 کے قریب شہری داعش میں شامل ہو کر عراق اور شام میں عسکریت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہیں۔ اس سلسلے میں ایک بیس سالہ نوجوان کے خلاف فرینکفرٹ میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ وہ شام میں داعش کے ساتھ بطور جنگو شامل رہا ہے۔ جرمنی میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے۔ واضح رہے جرمنی میں مجموعی طور پر مسلمانوں کی تعداد چالیس لاکھ کے قریب ہے۔
خبر کا کوڈ : 411000
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب