0
Tuesday 16 Dec 2014 18:53

ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کیلئے امریکہ اور مغرب کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، عبدالباری عطوان

ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کیلئے امریکہ اور مغرب کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، عبدالباری عطوان
اسلام ٹائمز۔ معروف عرب سیاسی تجزیہ نگار اور اخبار "رای الیوم" کے چیف ایڈیٹر عبدالباری عطوان نے اپنے ادارتی کالم میں خطے کی تازہ ترین صورتحال، اسرائیل کی مشکلات اور ایران کے جوہری پروگرام پر روشنی ڈالی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ بے شک اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو دی گئی وارننگ بے فائدہ ثابت ہو گی کیونکہ شدت پسند یہودی تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس تک پہنچ چکے ہیں جس کے نتیجے میں محمود عباس کی سربراہی میں فلسطین اتھارٹی کے دن گنے جا چکے ہیں۔ اس کا نقصان فلسطین اتھارٹی کے اتحادی عرب ممالک کو بھی برداشت کرنا پڑے گا۔ 
 
عبدالباری عطوان مزید لکھتے ہیں:
"بنجمن نیتن یاہو اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اٹلی کے شہر روم میں منعقد ہونے والی آج کی میٹنگ میں اسرائیل پر دباو ڈالا کہ وہ 1967ء کے دور کی حدود تک پسپائی اختیار کرے تو شدت پسند یہودی تل ابیب پر حملہ کر دیں گے"۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس وقت امریکہ کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا کہ وہ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم پر 1967ء والی حدود تک واپس جانے کیلئے دباو ڈالے کیونکہ گذشتہ چند سالوں کے دوران اسرائیلی حکومت کی کارکردگی اچھی نہیں رہی اور اس نے اعتدال پسند فلسطینی دھڑوں کے مطالبات کو پس پشت ڈال کر فلسطین کو وحشیانہ فوجی حملوں کا نشانہ بنایا ہے اور بڑے پیمانے پر بیگناہ فلسطینی باشندوں کا قتل عام کیا ہے۔ لہذٰا ان اقدامات کے باعث اسرائیل نے مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے تمام پرامن راستوں کو اپنے اوپر بند کر دیا ہے۔ 
 
عبدالباری عطوان لکھتے ہیں کہ شدت پسند عناصر، چاہے وہ عرب ہوں یا فلسطینی، نہ صرف تل ابیب کی جانب حرکت کا آغاز کر چکے ہیں بلکہ مقبوضہ بیت المقدس کی جانب بڑھ رہے ہیں اور قدس شریف کے مرکز تک پہنچنے کی کوشش کریں گے کیونکہ اب صرف وہی باقی بچے ہیں اور فلسطین اتھارٹی جو گذشتہ 20 برس سے غاصب صہیونی سکیورٹی فورسز کے تعاون سے اسلامی مزاحمتی گروہوں کو کچلنے میں مصروف تھی سیاسی، اخلاقی اور مالی اعتبار سے شدید ناکامی کا شکار ہو چکی ہے اور عنقریب اس کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ اب محمود عباس کی جانب سے اقوام متحدہ سے رجوع کرنے اور سلامتی کونسل میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے کیلئے ٹائم ٹیبل مقرر کئے جانے کے بارے میں قرارداد منظور کروانے کا بھی کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ 
 
معروف عرب تجزیہ نگار عبدالباری عطوان لکھتے ہیں کہ یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت جب "اسلامی شدت پسند عناصر" ابوظہبی اور ریاض میں دندناتے پھرتے ہیں اور عراق کے 50 فیصد حصے جبکہ شام کے دو تہائی حصے پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور مراکش، یمن، صومالیہ اور مصر کے علاقے سینا میں اپنے پنجے جما چکے ہیں، اور مستند ذرائع کے مطابق صرف نومبر کے مہینے میں 5 ہزار انسانوں کو قتل کر چکے ہیں، تل ابیب ابھی تک پرامن کیوں ہے؟ اور یہودی بستیوں کے رہنے والے امن و امان سے زندگی کیوں گزار رہے ہیں؟ اور اسرائیلی کابینہ ماضی کی طرح فلسطینیوں کی سرزمین کو غصب کرنے، فلسطینیوں کا قتل عام کرنے، فلسطینی وزیروں سمیت نہتے مظاہرین کو قتل کرنے اور ان کے زیتون کے باغ اجاڑنے میں مصروف کیوں ہے؟ 
 
عبدالباری عطوان نے شام کے بعض حکومت مخالف گروہوں کا اسرائیل کے ساتھ متحد ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ دہشت گرد گروہ اپنے زخمی دہشت گردوں کو تل ابیب کے اسپتالوں میں علاج کیلئے بھیجتے ہیں اور بدترین گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ لیکن آخرکار جنوبی لبنان میں آنتوان لحد کی فوجوں کے انجام سے بھی زیادہ برا انجام ان کے انتظار میں ہے۔ کیونکہ انہیں جیسے گروہ آج تل ابیب میں روٹی کے ایک نوالے کیلئے ترس رہے ہیں اور ان کے آقا اب ان کی مزید حمایت کرنے کو تیار نہیں۔ آج اسرائیل اور اسرائیلیوں اور ان کے رہنماوں پر زمین تنگ ہو چکی ہے اور بعض سازشی عرب حکومتیں جو اسرائیل کے ساتھ تعاون کرتی رہی ہیں، بھی شدید مشکلات کا شکار ہو چکی ہیں کیونکہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کی تمام تر کوششیں اور ہر قسم کا دباو شکست سے دوچار ہو چکا ہے۔ اسی طرح خطے میں روس کا اثرورسوخ بھی ماضی کی نسبت زیادہ بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے امریکہ اور مغرب کی ترجیحات میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ 
 
رای الیوم کے چیف ایڈیٹر اور معروف عرب سیاسی تجزیہ نگار عبدالباری عطوان اپنے کالم کے آخر میں لکھتے ہیں:
"ایسے حالات میں مقبوضہ فلسطین اور خطے میں طاقت کا خلا زیادہ مدت تک برقرار نہیں رہے گا خاص طور پر جب اسلامی مزاحمت کی ثقافت اور سوچ روز بروز جڑیں پکڑ رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے اسلامی مزاحمت ہی وہ واحد قوت ہے جس نے خود کو مذہبی فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر امریکہ اور اسرائیل کے پیدا کردہ تمام اختلافات کا مقابلہ کیا ہے اور اسرائیل کے وحشیانہ عزائم کے مقابلے میں فلسطینی مسلمانوں کا دفاع کیا ہے۔ لہذا اب یہ موج اپنے عروج کو پہنچنے والی ہے اور جو شخص بھی اس حقیقت سے غافل ہے وہ درحقیقت خطے کے حالات سے ناواقف ہے اور خطے میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کو صحیح طور پر درک نہیں کر رہا"۔ 
 
 
 
خبر کا کوڈ : 426083
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے