0
Saturday 24 Oct 2015 09:42

عاشورہ محرم الحرام 1437 ھ (2015ء) کے موقع پر علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

عاشورہ محرم الحرام 1437 ھ (2015ء) کے موقع پر علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام
اسلام ٹائمز۔ محسن انسانیت، نواسہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدالشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام نے بزور مسلط کی جانیوالی حکمرانی کو ماننے سے انکار کر دیا، اسلامی اصولوں اور بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی نفی پر مبنی جابرانہ نظام کو تسلیم نہ کیا، اوپرے کلچر اور تہذیب کو ٹھکرا دیا اور اصلاح امت، معروف (نیکی) کو پھیلانے اور منکر (برائی) کومٹانے کے لیے مدینہ سے ہجرت اختیار کی۔ یزید کا دور ایسا تھا کہ احکام اسلام کو کھلونا بناکر، اطاعت خداوندی کو ترک کرکے، شیطان کی پیروی کو اپنا نصب العین بنا کر، قرآنی احکامات اور سنت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں تحریف کرکے، اسلامی تعلیمات کو نابود کرکے، عدل اجتماعی کے تصور کا خاتمہ کرکے، بنیادی انسانی حقوق سلب کرکے، معاشی و سماجی ناانصافی کانظام قائم کرکے، خدا کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال میں بدل کر، بدعتیں زندہ کرکے، فحاشی وعریانی کو فروغ دے کراور قومی خزانے کو اپنے ذاتی و حکومتی مفادات و مقاصد کے لیے استعمال کر کے دین الہی میں تبدیلی کی جارہی تھی شریعت محمدی ؐکا حلیہ بگاڑا جا رہا تھا۔

61 ھ کے بعد روز عاشور امام حسین علیہ السلام کے اسم گرامی کے ساتھ منسوب ہوگیا اس سے قبل عاشورہ کا لغوی اور لفظی مفہوم علمی حد تک تو عیاں تھا لیکن عاشورہ کی عملی شکل امام عالی مقام کے کردار سے سامنے آئی اور اس انداز سے اجاگر ہوئی کہ عاشورہ حریت کی ایک تعبیر بن گیا اور جب بھی عاشورہ کا ذکر ہوا تو انسان کے ذہن میں امام حسینؑ اور ان کی لازوال قربانی کا نقش اجاگر ہوا پیغمبران الہیٰ کا اصلاحی مشن زندہ ہوا اور وحی الہٰی کی روشنی میں نظام اور طرز زندگی کو منظم کرنے کا راستہ خون ناحق سے روشن ہوا۔

روز عاشور سے قبل شب عاشور بھی اپنے اندر ایک الگ تاریخ کی حامل ہے جب امام عالی مقام نے عاشورا کے حقائق سے اپنے ساتھیوں، جانثاروں اور بنو ہاشم کو آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ عاشورا برپا ہونے کی عملی شکل کیا ہوگی؟ اور اس میں کس کس کو کیا کیا قربانی دینا پڑے گی؟ آپؑ نے جب اپنے اصحاب و انصار کو عاشورا کی حقیقت یعنی اٹل موت سے باخبر کیا تو ساتھ ساتھ انہیں اپنے راستے کے انتخاب کی آزادی بھی فراہم کی اور کسی قسم کا حکم یا جبر اختیار نہیں کیا بلکہ انہیں اختیار دیا کہ وہ عاشورا کے راستے کا انتخاب کریں یا کربلا سے چلے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ شب عاشور جب چراغ گل کرایا گیا تو انسانوں کی تقسیم نہ ہوئی بلکہ ضمیروں کی شناخت ہوئی۔ کھوکھلے دعوؤں کی بجائے نظریہ کی پختگی کا اندازہ ہوا اور چند لمحوں کی وابستگی دائمی نجات کی ضامن بن گئی۔

شب عاشور حضرت امام حسین علیہ السلام کی طرف سے لوگوں کو اپنی بیعت سے آزاد کرنا، شعور و نظریہ اور آزادی و استقلال کے ساتھ شہادت کے سفر پر گامزن ہونے کا درس دیتا ہے۔ آپؑ نے جبر کے ساتھ لوگوں کو اپنے ساتھ وابستہ نہ رکھ کر رہتی دنیا کے لئے ہدایت و رہنمائی چھوڑی کہ کشتیاں جلا کر لوگوں کو جبری شہادت کی طرف مجبور کرنا اور ہے جبکہ چراغ بجھا کر لوگوں کو ابدی نجات عطا کرنا اور ہے۔

آج کی صورت حال 61 ھ کی صورت حال کے مشابہ ہے لیکن انداز و ماحول نیا ہے۔آج بھی حسین علیہ السلام ابن علی علیہ السلام کربلا سے صدائیں بلند کر رہے ہیں کہ کوئی آئے اور ہمارا ساتھ دے۔آئیے ہم حسین علیہ السلام ابن علی علیہ السلام کا ساتھ دیں اور ان کی صدا پر لبیک کہیں۔ احکام خداوندی اور شریعت نبوی پر عمل پیرا ہو کر اپنے اچھے اور مضبوط کردار کے ذریعے، کردار سیدہ زینب ؑ اور سیرت حضرت زین العابدین علیہ السلام پر عمل کے ذریعے، مشن حسین علیہ السلام اور اسلام کے عادلانہ نظام کے لیے عملی جدو جہد کے ذریعے، دشمن کے عزائم اور مظالم سے اتحاد و اخوت اور وحدت کے ساتھ نبرد آزما ہونے کے ذریعے ۔۔۔ اور اس راستے میں اگر مشکلات پیش آئیں حتی کہ شہادت کی سعادت بھی نصیب ہو تو اس کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھا جائے بلکہ حالات کا تقاضا ہے کہ ایک اور عاشورہ برپا کرنے کے لیے آمادہ رہا جائے۔

یہی ہر دور کا پیغام عاشور ہے
خبر کا کوڈ : 493228
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے