0
Monday 2 May 2016 11:28
صیہونی حکومت ماضی سے کہیں زیادہ حزب اللہ سے خوف زدہ اور ہراساں ہے

موجودہ حالات میں فلسطین کا دفاع اسلام کے دفاع کے مترادف ہے، آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای

آج خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ درحقیقت ایران کے اسلامی نظام کیساتھ امریکہ کی محاذ آرائی کا تسلسل ہے
موجودہ حالات میں فلسطین کا دفاع اسلام کے دفاع کے مترادف ہے، آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ کی سربراہی میں مغربی محاذ، اسلامی محاذ کے ساتھ وسیع اور بھرپور جنگ کے ذریعے علاقے پر تسلط حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اتوار کی شام تہران میں تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے سیکرٹری جنرل رمضان عبداللہ سے ملاقات میں علاقے کے موجودہ حالات کا جامع تجزیہ کرتے ہوئے اس بات پر تاکید کی کہ آج علاقے میں جو وسیع جنگ شروع ہے، یہ اس جنگ کا تسلسل ہے، جو سینتیس سال قبل ایران کے خلاف شروع کی گئی تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مسئلہ فلسطین کے بارے میں ایران کا موقف عارضی اور وقتی نہیں تھا اور نہ ہی ہے، مزید کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے اور جدوجہد کے دوران فلسطین کی حمایت اور صیہونی حکومت کا مقابلہ کرنے کی ضرورت کا موضوع امام خمینی (رہ) کے موقف میں بار بار بیان کیا جاتا تھا اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی فلسطینی عوام کی حمایت ایران کی اولین ترجیحات میں شامل تھی، اس بنا پر فلسطینی کاز کا دفاع فطری طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسیوں کا ایک حصہ ہے۔

آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے اسلامی انقلاب کو جھکانے یا اسلامی نظام کو اس کے موقف سے ہٹانے کے لئے وسیع پیمانے پر مختلف قسم کے سیاسی، تشہیراتی اور اقتصادی حتٰی فوجی دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ آج جو کچھ علاقے میں ہو رہا ہے، وہ درحقیقت ایران کے اسلامی نظام کے ساتھ امریکہ کی محاذ آرائی کا تسلسل ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے علاقے پر تسلط جمانے کو اسلامی محاذ کے خلاف امریکہ کی سربراہی میں مغربی محاذ کی موجودہ وسیع جنگ کا اصلی مقصد قرار دیا اور کہا کہ علاقے کی تبدیلیوں کا اس پہلو سے جائزہ لیا جانا چاہیے اور اس تناظر میں شام، عراق، لبنان اور حزب اللہ کے مسائل اس وسیع محاذ آرائی کا ایک حصہ ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایسے حالات میں فلسطین کا دفاع، اسلام کے دفاع کے مترادف ہے، انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سامراج نے اس محاذ آرائی کو شیعہ و سنی کے درمیان جنگ قرار دینے کی وسیع پیمانے پر کوششیں کی ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ شام میں شیعہ حکومت برسر اقتدار نہیں ہے، کہا اس کے باوجود، اسلامی جمہوریہ ایران شامی حکومت کی حمایت کرتا ہے، کیونکہ شام کے مقابلے پر جو لوگ ہیں، وہ درحقیقت اسلام کے دشمن اور امریکہ اور صیہونی حکومت کے مفادات کے لئے کام کر رہے ہیں۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے حزب اللہ لبنان پر زیادہ دباؤ ڈالنے کے لئے کی جانے والی بعض کوششوں کے بارے میں تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے سیکریٹری جنرل کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ لبنان اب اتنی طاقتور ہوچکی ہے کہ یہ اقدامات اسے نقصان نہیں پہنچا سکتے اور آج یقیناً صیہونی حکومت ماضی سے کہیں زیادہ حزب اللہ سے خوف زدہ اور ہراساں ہے۔
خبر کا کوڈ : 536588
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے