0
Wednesday 16 Feb 2011 13:55
ترکی کے صدر عبداللہ گل کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے:

برطانوی حکومت مسلمانوں کے درمیان اختلافات کا اصلی سبب ہے، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

برطانوی حکومت مسلمانوں کے درمیان اختلافات کا اصلی سبب ہے، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز- اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے درمیان جو بھی اختلافات دیکھنے میں آ رہے ہیں ان کے پیچھے برطانوی حکومت کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے یہ بات کل 15 فروری کو ترکی کے صدر جناب عبداللہ گل کے ساتھ اپنی ملاقات میں کہی۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ترکی اور ایران کو دو مسلمان، دوست اور برادر ملک قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی روابط کو مزید بہتر بنانے اور وسعت دینے پر زور دیا۔
قائد انقلاب اسلامی ایران نے عالم اسلام میں ترکی کی موجودہ حیثیت کو گزشتہ سالوں کی نسبت بہت مختلف قرار دیا اور کہا: "مغربی دنیا کے مقابلے میں خودمختاری، اسرائیل سے دوری اور فلسطینی عوام کی حمایت ایسے اہم موضوعات ہیں جنہوں نے ترکی کو امت اسلامی سے زیادہ قریب کر دیا ہے"۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تاکید کہ صحیح پالیسی یہی ہے اور ترکی کے مسلم دنیا سے قریب ہونے میں ہی عالم اسلام اور ترکی دونوں کا فائدہ ہے۔
قائد انقلاب اسلامی ایران نے خطے کے مسائل مخصوصاً افغانستان، عراق، لبنان اور فلسطین سے متعلق ایران اور ترکی کے مشترکہ موقف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مصر کے سیاسی حالات بھی انتہائی اہم ہیں اور امید ہے کہ دونوں ممالک اس بارے میں بھی مل کر مناسب اقدامات انجام دیں گے۔ انہوں نے مصری عوام کی جانب سے ملک گیر احتجاج کو کئی عشروں سے مصر پر اسرائیلی اور امریکی تسلط اور مصری عوام کی تحقیر کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ مصر کے عوام مسلمان ہیں اور مضبوط اسلامی محرکات کے حامل ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے امت مسلمہ کی وحدت کے فروغ کو عالم اسلام کا اہم ترین موضوع قرار دیا اور شیطانی طاقتوں کی جانب سے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر زور دیا۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا: "اگر عالم اسلام اپنی عظیم توانائیوں اور صلاحیتوں سے واقف ہو جائے تو حالات بالکل بدل سکتے ہیں اور مسلم دنیا عالمی سیاست پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے"۔
ولی امر مسلمین جہان نے کہا: "مغربی دنیا نے ہمیشہ عالم اسلام کی تحقیر کی ہے اور جس قوم یا حکومت نے اس تحقیر آمیز رویہ کا مقابلہ کیا ہے اسے مغربی ممالک کی جانب سے شدید مخالفت اور سازشوں کا سامنا کرنا پڑا ہے"۔ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے خداوند عالم کی جانب سے مسلمانوں کی نصرت کے حتمی اور یقینی وعدے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "اگر ہم خطے کے موجودہ حالات اور عالمی استکباری قوتوں کی صورتحال کو ماضی کے ساتھ مقایسہ کریں تو نصرت الہی کی نشانیوں کو اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں"۔
قائد انقلاب اسلامی ایران نے مزید کہا: "امریکہ اور بڑے دعوے کرنے والی مغربی قوتیں تیس سال قبل خطے کو مکمل طور پر اپنے تسلط میں لئے ہوئے تھیں، لیکن آج کی صورتحال کیا ہے؟، صہیونیستی رژیم کی آج کی صورتحال تیس سال قبل والی صورتحال کی نسبت کیا ہے؟، آج کے ایران کو تیس سال قبل والے ایران کے ساتھ مقایسہ کریں، آج کے ترکی اور تیس سال قبل والے ترکی میں کیا فرق ہے؟، عراق اور فلسطین کی موجودہ صورتحال تیس سال قبل والی صورتحال سے کیا فرق رکھتی ہے۔ یہ سب کچھ خدا کی مدد اور نصرت کی نشانیاں ہیں، یہ تبدیلیاں انشاءاللہ تیزی سے آگے بڑھیں گی"۔
اس ملاقات میں ایران کے صدر محمود احمدی نژاد بھی موجود تھے۔ ترکی کے صدر عبداللہ گل نے بھی اس ملاقات کو مسرت بخش قرار دیتے ہوئے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور وحدت پر زور دیا۔
خبر کا کوڈ : 55086
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش