0
Monday 1 Aug 2016 16:57

پاکستان کی کشمیر پالیسی میں کنفوژن ہے، اسکو دور کیا جائے، حافظ محمد سعید

پاکستان کی کشمیر پالیسی میں کنفوژن ہے، اسکو دور کیا جائے، حافظ محمد سعید
اسلام ٹائمز۔ جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں سینئر صحافیوں، کالم نگاروں اور اینکرز سے مسئلہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ راجناتھ سنگھ کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، حکمران بتائیں، وہ بھارتی وزیر داخلہ کا استقبال کر کے کشمیریوں کے زخموں پر اور کتنا نمک چھڑکیں گے، قوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے راجناتھ کی پاکستان آمد پر بھرپور احتجاج کرے گی، کشمیر پالیسی کو کنفیوژن سے پاک، واضح اور دوٹوک بنایا جائے، برہان وانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی کشمیر نتیجہ خیز موڑ پر پہنچ چکی، حکومت امدادی سامان کشمیر بھجوائے، ترکی سے فلسطینیوں کی مدد کیلئے فریڈم فوٹیلا چل سکتا ہے تو پاکستان سے مظلوم کشمیریوں کیلئے امداد کیوں نہیں جاسکتی، کشمیری شہداء کا خون ہمیں پکار رہا ہے، انڈیا کی ریاستی دہشت گردی بے نقاب کرنے کیلئے سفارتخانوں کو متحرک کیا جائے، کشمیر کا مسئلہ تقریروں سے حل نہیں ہو گا جرأتمندانہ فیصلے کئے جائیں۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ جو حالات کشمیر میں ہیں کیا واقعی اس کا درد پاکستان میں محسوس کیا جا رہا ہے؟اس وقت یہ بہت بڑا سوال ہے، سارے کشمیری آج سڑکوں پر ہیں، تحریک کی قیادت نوجوانوں کے پاس ہے اور جو پاکستان کا جھنڈا نہیں اٹھاتا، پاکستان زندہ باد کا نعرہ نہیں لگاتا، کشمیرکی تحریک یا سیاست میں اسکا کوئی کردار نہیں رہا، کشمیر کے لوگوں نے ہمیشہ پاکستان کو اپنا وکیل مانا، لیکن یہاں کی صورتحال عجیب ہے، کشمیر پالیسی میں کنفیوژن ہے، وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ سے لے کر عام آدمی تک ایک ہی بات کہی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اس پر ہماری پالیسی نہیں بنی بلکہ ہم پیچھے ہٹے، نائن الیون کے بعد انڈیا کو حوصلہ ہوا، بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑا گیا، پارلیمنٹ کا مشترکہ سیشن ہونے والا ہے، اسے نتیجہ خیز بنانے کے لئے میڈیا کو کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کا خون ہمیں پکار رہا ہے، کشمیری مائیں، بہنیں، بیٹیاں دہائیاں دے رہی ہیں، اسلئے کشمیر کے حوالے سے بہت بڑا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، حریت کانفرنس کے نمائندگان اسلام آباد میں موجود ہیں، چینلز انکو اہمیت دیں، کشمیر کی بات کشمیریوں کی زبان سے سنائی جائے اور حکومت پر دبائو بڑھایا جائے کہ بڑا فیصلہ کیا جائے، قومی اسمبلی میں تقریر اور پھر کسی فورم پر کشمیر کے حوالہ سے بیان، کچھ بھی نہیں،ایسی موثر پالیسی بنائی جائے جو آزادی کشمیر پر مبنی ہو۔ واضح رہے کہ فلاح انسانیت فائونڈیشن کے چیئرمین حافظ عبدالرئوف نے کشمیر کے حوالہ سے ملٹی میڈیا بریفنگ بھی دی۔
خبر کا کوڈ : 556688
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش