0
Saturday 17 Sep 2016 17:39

فاٹا کو خیبر پی کے میں ضم کرکے مردم شماری و بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، سراج الحق

فاٹا کو خیبر پی کے میں ضم کرکے مردم شماری و بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، سراج الحق
اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے سرتاج عزیز کی  فاٹا ریفارمز کمیٹی کی سفارشات کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے فاٹا کو 5 اور 10 سال کی بجائے فوری طور پر خیبر پختونخوا میں ضم کرنے، وہاں مردم شماری اور  بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرنے اور قبائلی علاقہ جات کی تعمیر و ترقی کیلئے 5 سو ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کا مطالبہ کیا اور واضح کیا ہے کہ فاٹا کا 5 سے 10 سال میں خیبر پختونخوا میں انضمام ایک افسانہ ہے۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو 2018 کے انتخابات سے قبل ہی  فاٹا کو صوبہ کا حصہ بنایا جائے جبکہ نادرا نے پورے ملک اور خاص کر خیبرپختونخوا کے 18 لاکھ شہریوں کے بلاک شناختی کارڈ بحال نہ کئے تو یکم اکتوبر کو نادرا ہیڈکوارٹر کا گھیراؤ کرکے دھرنا دیا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اسلامی پشاور میں فاٹا سیاسی اتحاد کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا، سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ تمام قبائلی سرتاج عزیز کی کمیٹی اصلاحات کی حمایت کرتے ہیں تاہم ان اصلاحات میں چند بنیادی نکات کااب بھی احاطہ نہیں کیاگیاہے۔ قبائلی علاقوں میں فوری طور پر عام یونیورسٹی کیساتھ خواتین کیلئے خصوصی یونیورسٹی، میڈیکل کالج اور انجینئرنگ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایاجائے۔ اسی طرح ملک بھر کے تمام خصوصاً پیشہ ورانہ کالجز میں قبائلی طلبہ کیلئے کوٹہ بڑھایا جائے کیونکہ اس وقت قبائلی آبادی 2 کروڑ سے تجاوزکرچکی ہے اور کاغذات میں اسے تاحال پچاس سے ساٹھ لاکھ آبادی ظاہر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل ہی فاٹا کو کے پی کے کا حصہ بنایا جائے اور پانچ سے دس سال کے اصلاحاتی ایجنڈے کے بجائے وہاں فوری مردم شماری کا انعقاد کرکے بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اور بلدیاتی  نمائندوں کے ذریعے ترقیاتی کام کاآغاز کیا جائے۔ فاٹا کا بنیادی ڈھانچہ گزشتہ دس سالہ کشیدگی کے باعث موہنجوداڑو کا نظارہ پیش کررہا ہے، اسلئے وفاق فوری طور پر پانچ سو ارب روپے کا اعلان کرے اور این ایف سی میں تین فیصد کے بجائے ان کیلئے خطر رقم مختص کرے۔ سراج الحق نے کہا کہ فاٹا اس وقت ملک پر بوجھ نہیں بلکہ وہاں کے معدنیات پورے ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ اس لئے وہاں پر معاشی سرگرمیوں کے آغاز کیلئے بھی حکمت عملی بنائی جائے، انہوں نے کہا کہ پرمٹ اور راہداری کو ختم کرنا اچھی تجویز ہے لیکن حکومت بنیادی اصلاحات کو بھی عملی جامہ پہنائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قبائلیوں کے ہزاروں کی تعداد میں شناختی کارڈ بلاک کئے گئے ہیں اور یہ مسئلہ صرف قبائلیوں کا نہیں بلکہ بندوبستی علاقوں اور دیگرصوبوں کا بھی ہے۔ اس لئے فیصلہ کیاگیا ہے کہ اگر تمام قبائلیوں کے شناختی کارڈ پندرہ دن کے اندر بحال نہ کئے گئے تو صوبائی ہیڈکوارٹر میں نادرا کے دفاتر کے باہر دھرنا دیاجائیگا۔
خبر کا کوڈ : 567966
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب