0
Tuesday 11 Oct 2016 20:47

آئی جی سندھ کا نویں محرم کے مرکزی جلوس کے روٹس کا دورہ

آئی جی سندھ کا نویں محرم کے مرکزی جلوس کے روٹس کا دورہ
اسلام ٹائمز۔ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے نو محرم الحرام کو سیکیورٹی اقدامات کی مانیٹرنگ کے حوالے سے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے امور کا جائزہ لیا، بعد ازاں سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے مرکزی جلوس کے روٹس کا تفصیلی دورہ کیا اور مرکزی جلوس کے روٹس پر قائم روف ٹاپ پکٹس، تعینات شارپ شوٹرز کے علاوہ پولیس کمانڈوز و دیگر افسران و جوانوں کو تفویض کردہ ذمہ داریوں سے آگاہی حاصل کی۔ آئی جی سندھ کو بتایا گیا کہ نویں محرم کے روز برآمد ہونیوالے مرکزی جلوس کی سیکیورٹی کے لیے 6150 سے زائد پولیس افسران و جوان خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ 346 سے زائد امام بارگاہوں، 567 سے زائد مجالس، 279 جلوسوں، اور کم و بیش 50 وعظ و محافل کے مقامات پر 19519 سے زائد افسران و جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ آئی جی سندھ کو بتایا گیا کہ محرم سیکیورٹی منصوبے کے مطابق ایس ایس پیز، ایس پیز، ایس ڈی پی اوز، سمیت خواتین پولیس افسران و اہلکاروں کو خصوصی ذمہ داریوں پر مامور کرنے کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں موبائلز، موٹر سائیکلز اور بکتر بند گاڑیوں پر سوار افسران و جوان بھی پیٹرولنگ کے مجموعی اقدامات کو ٹھوس اور مربوط بنارہے ہیں۔ پولیس رپورٹ کے مطابق امام بارگاہوں، مجالس، وعظ کے مقامات، جلوسوں کی اجتماع گاہوں و گذرگاہوں پر غیرمعمولی حفاظتی اقدامات کے ضمن میں ہر قسم کی پارکنگ ممنوع رکھنے کے ساتھ ساتھ مختص کردہ پارکنگ ایریاز میں باوردی اور سادہ لباس اہلکاروں کی تعیناتیوں کے علاوہ بم ڈسپوزل اسکواڈ سے سوئپنگ اور کلیئرنس کے عمل کو بھی یقینی بنایا جارہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نشتر پارک کے داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹس کے علاوہ میٹل ڈیٹیکٹر کے ذریعے شرکاء کی فزیکل سرچنگ کو منتظمین کے تعاون سے یقینی بنایا جارہا ہے جبکہ یہی اقدامات حسینیہ ایرانیان امام بارگاہ کے لیے بھی اٹھائے جارہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے سیکیورٹی اقدامات کی براہ راست مانیٹرنگ سمیت مرکزی مجالس اور جلوس کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی جارہی ہے۔ آئی جی سندھ نے پولیس کوہدایات جاری کیں کہ محرم کنٹی جینسی پلان پرعمل درآمد کو مؤثر بناتے ہوئے دفعہ 144 کے تحت عائد پابندیوں کے ضمن میں غیرجانبدارانہ کاروائیوں کو یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے تھانہ جات کی سطح پر موبائل، موٹرسائیکل اور پیدل گشت سمیت پکٹنگ اور رینڈم اسنیپ چیکنگ کے عمل کو بھی انتہائی ٹھوس اور مربوط بنایا جائے۔
خبر کا کوڈ : 574677
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے