0
Sunday 6 Nov 2016 02:18

ملک دشمن عناصر کراچی کو فرقہ واریت میں دھکیل کر حالات خراب کرنا چاہتے ہیں، مفتی محمد نعیم

ملک دشمن عناصر کراچی کو فرقہ واریت میں دھکیل کر حالات خراب کرنا چاہتے ہیں، مفتی محمد نعیم
اسلام ٹائمز۔ جامعہ بنوریہ العالمیہ کے رئیس مفتی محمد نعیم نے شہر قائد میں دہشتگردی کے واقعات اور 6 افراد کی ٹارگٹ کلنگ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت امن قائم رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے، شہر میں ایک بار پھر مذہبی کارکنان کو نشانہ بنانا فرقہ واریت پھیلانے کی مذموم کوشش ہے، ملک دشمن عناصر امن برباد کرکے معاشی حب کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں دہشتگردوں کی گرفتاری، سینکڑوں دہشتگردوں کے مقابلوں میں مارے جانے کے بعد دہشتگردی کے واقعات کا نہ رکنا افسوسناک اور لمحہ فکریہ ہے۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ سے جاری بیان میں مفتی محمد نعیم نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ افسوسناک ہے، دہشت گرد شہر میں فرقہ واریت پھیلانے میں مصروف ہیں اور حکومت سندھ کی جانب سے کوئی اقدامات نظر نہیں آتے ہیں، گذشتہ دنوں شیعہ کمیونٹی کے پانچ افراد کو مارا گیا، آج اہلسنت کے 6 کارکنوں کو دن دیہاڑے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، سندھ حکومت شہر کے امن و امان پر توجہ دے، دہشت گرد عناصر فرقہ واریت پھیلانے میں مصروف ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب دہشت گردی کے واقعات رکتے ہیں تو حکمران بڑے دعوے کرتے ہیں، مگر اقدامات پر توجہ نہیں دیتے، دیرپا امن کیلئے دعوے نہیں اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکمران اگر مخلص ہوتے تو شہر کا امن تباہ کرنے کی کسی میں جرات نہیں ہوتی، ہمارے حکمران امن قائم کرنے میں مخلص نظر نہیں آتے، ایک طرف ملک میں سیاسی انتشار کی کوششیں کی جاتی ہیں تو دوسری جانب ملک کے سب سے بڑے معاشی حب کو فرقہ واریت کی دلدل میں دھکیلنے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں پائیدار امن کیلئے جامع حکمت عملی ترتیب دیکر اقدامات کرنے ہوں گے اور جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ملزمان کی گرفتاری اور آئے روز پولیس مقابلوں میں دہشت گردوں کے مارے جانے کے باوجود شہر سے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ختم کیوں نہیں ہو رہی، کچھ دن واقعات روک جاتے ہیں، پھر سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ روز جب دہشت گرد اپنے اگلے مذموم ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں تو حکمران یہ کہتے نہیں تھکتے ہم نے ٹارگٹ کلنگ ختم کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ پوچھنے کا حق حاصل ہے، جس طرح سے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات رونما ہونا شروع ہوگئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے شہر میں ٹارگٹ کلر موجود ہیں، پھر گذشتہ طویل عرصہ سے جاری آپریشن میں گرفتاریاں اور مقابلوں میں دہشت گردوں کی ہلاکتیں سوالیہ نشان ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک دشمن عناصر اور بیرونی اشاروں پر شہر میں فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کو فی الفور قانون کے شکنجے میں لایا جائے، جو ایک بار پھر شہر قائد کی رونقیں لوٹنے اور یہاں کے امن کو تہس نہس کرنے کے لئے میدان میں آگئے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 581289
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے