0
Tuesday 29 Nov 2016 18:07

جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کیخلاف سعودی اتحاد کی مصالحتی اختیار کیساتھ کمان سنبھالنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی

جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کیخلاف سعودی اتحاد کی مصالحتی اختیار کیساتھ کمان سنبھالنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی
اسلام ٹائمز۔ پاک فوج کے ریٹائرڈ ہونیوالے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کیخلاف نام نہاد اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی قبول کرنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے، جبکہ ایران نے یمن کی صورتحال پر پاکستان کی ثالثی اور جنرل راحیل شریف کے مصالحتی کردار کو قبول کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق جنرل راحیل شریف نے شرط عائد کی ہے کہ انہیں متحارب گروپوں کے درمیان مصالحت کرانے کا اختیار بھی دیا جائے تو وہ اسلامی فوجی اتحاد کی کمان سنبھالنے کے لئے تیار ہیں، اگر انہیں مصالحتی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تو وہ محض کسی ایک فریق کی حمایت میں لڑنے والی فوج کو کمان کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی حکومت نے اپنے پاکستانی سفارتکاروں کے ذریعے جنرل راحیل شریف کو تحریری پیغام بھجوایا ہے کہ اگر وہ مصالحتی اختیار کیساتھ اسلامی فوجی اتحاد کی کمان سنبھالتے ہیں تو ایران نہ صرف یمن کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے ان کا ساتھ دے گا بلکہ حوثی مجاہدین کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے بھی تیار ہے، اس سلسلے میں ایرانی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ یمن کے معاملہ پر پاکستان کے ثالثی کردار کو بھی قبول کر لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق جنرل راحیل شریف سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کے دوران اپنی اس خواہش کا اظہار کرچکے ہیں، جبکہ وہ ترک حکومت تک بھی اپنا یہ پیغام پہنچا چکے ہیں۔

دہشتگردوں کیخلاف متحدہ اسلامی فوج کے قیام کے منصوبہ کا اعلان 15 دسمبر 2015ء کو سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے کیا تھا، جبکہ 34 ممالک کے نام نہاد اسلامی فوجی اتحاد کا باقاعدہ اعلان مارچ 2016ء میں کیا گیا تھا۔ اسلامک ملٹری الائنس ٹو فائٹ ٹیررسٹ (IMAFT) کے رکن ممالک کی تعداد 39 ہوچکی ہے، اس فہرست میں شامل متعدد ممالک نے اسلامی فوجی اتحاد کی حمایت کی ہے، تاہم فوجی کردار ادا کرنے کیلئے تاحال 7 ممالک نے رضامندی ظاہر کی ہے، جن میں ترکی، بحرین، لیبیا، نائیجیریا، بنگلہ دیش، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، جبکہ اس فوجی اتحاد کی مکمل حمایت کرنیوالے دیگر اسلامی ممالک میں پاکستان، ملائشیا، مصر اور اردن بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی طرف سے اس نام نہاد اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کیلئے جنرل راحیل شریف کو پیش کش کی گئی تھی، جو تاحال برقرار ہے، تاہم جنرل راحیل شریف مصالحتی اختیارات حاصل کئے بغیر یہ عہدہ قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ذرائع کے مطابق ایرانی حکومت نے یمن کے معاملہ پر ثالثی کیلئے پہلے پاکستانی وزارت خارجہ سے رابطہ کیا تھا، جس نے اس معاملہ پر چپ سادھ رکھی ہے، جس کے بعد پاکستان میں موجود ایرانی سفارتکاروں نے اپنی حکومت کی طرف سے تحریری طور پر جنرل راحیل شریف کو یہ پیغام بھجوایا۔ ذرائع کے مطابق ترک سفارتکار کے ذریعے جنرل راحیل شریف اس صورتحال سے ترک حکومت کو بھی آگاہ کرچکے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 587503
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے