0
Saturday 31 Dec 2016 20:42

برطانیہ اور امریکہ آل سعود کی جانب سے یمنی عوام کی نسل کشی میں برابر کے شریک ہیں، یمنی رہنما

برطانیہ اور امریکہ آل سعود کی جانب سے یمنی عوام کی نسل کشی میں برابر کے شریک ہیں، یمنی رہنما
اسلام ٹائمز۔ یمن کے معروف سیاسی رہنما عدی عبدالحمید نے فارس نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود رژیم کی جانب سے یمنی عوام کے قتل عام میں امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم بھی شریک ہیں۔ انہوں نے کہا: "عالمی سطح پر کلسٹر بموں کا استعمال ممنوعہ ہونے پر مبنی معاہدہ موجود ہونے کے ناطے ایسے ممالک جو اس قسم کے بموں کا نشانہ بنتے ہیں یہ حق رکھتے ہیں کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں کلسٹر بم استعمال کرنے والے ملک اور اسے ایسے بم فراہم کرنے والے ممالک کے خلاف مقدمہ دائر کر سکیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اور برطانیہ ایسے ممالک ہیں جنہوں نے سعودی حکومت کو کلسٹر بم فراہم کئے ہیں لیکن اس کے باوجود بین الاقوامی فوجداری عدالت میں یمن کو مقدمہ دائر کرنے کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے"۔

معروف یمنی رہنما عدی عبدالحمید نے کہا کہ جارح سعودی حکومت گذشتہ دو سال سے بیگناہ یمنی عوام کے خلاف خوفناک جنگی جرائم جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا: "آل سعود رژیم بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکہ اور برطانیہ ساختہ کلسٹر بموں کے ذریعے کب تک یمنی عوام کا قتل عام جاری رکھے گی؟"۔ عدی عبدالحمید کا کہنا تھا کہ سعودی – امریکی اتحاد کی جانب سے یمنی عوام کے خلاف ممنوعہ ہتھیاروں کے وسیع استعمال نے اس رژیم کے حامی ممالک کو بھی سخت مشکل میں ڈال دیا ہے جیسا کہ حال ہی میں برطانوی حکومت نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے دباو کے نتیجے میں سعودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن کے خلاف جنگ میں کلسٹر بموں کا استعمال ترک کر دے۔

عدی عبدالحمید نے کہا: "برطانیہ 2010ء میں کلسٹر بموں کی ممنوعیت پر مبنی بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کر چکا ہے۔ اس معاہدے میں لندن سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے پاس موجود تمام کلسٹر بم ضائع کر دے اور دیگر ممالک کو بھی ایسے بم فراہم نہ کرے۔ لیکن برطانوی حکومت نے اس عالمی معاہدے کی پاسداری کرنے کی بجائے امریکہ سے مل کر آل سعود رژیم کو کلسٹر بموں سے لیس کیا۔ امریکہ اور برطانیہ نے شیخ نشین خلیجی ریاستوں کو ایسے ہتھیار فراہم کر کے اپنے ہاتھ یمنی عوام کے خون سے رنگ لئے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف برطانوی اور امریکی حکام عالمی میڈیا میں انسانی حقوق کے دفاع سے متعلق دلفریب دعوے کرتے نظر آتے ہیں"۔

یمنی سیاسی رہنما عدی عبدالحمید نے مزید کہا کہ برطانیہ امریکہ پر آل سعود رژیم کو کلسٹر بم فراہم کرنے کا الزام عائد کر کے اپنا دامن چھڑانا چاہتا ہے چونکہ امریکہ اور اسرائیل نے ابھی تک کلسٹر بموں کی ممنوعیت سے متعلق عالمی معاہدے پر دستخط نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ اب سب پر عیاں ہو چکا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ دونوں یمنی عوام کے قتل عام کے بدلے سعودی حکومت سے اربوں ڈالر وصول کر چکے ہیں۔ یمن کے بہادر اور شجاع عوام اپنے دشمنوں کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اور ان کے عزائم کو خاک میں ملانے کا پکا ارادہ کر چکے ہیں۔

یاد رہے لبنان، غزہ، ویت نام، عراق، شام، یمن اور لیبیا کی جنگوں میں امریکہ، اسرائیل اور سعودی حکومت کی جانب سے کلسٹر بموں کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے۔ اب تک 119 ممالک کلسٹر بموں کی ممنوعیت پر مبنی عالمی معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔ یہ معاہدہ 2008ء سے لاگو ہو چکا ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب نے ابھی تک اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے۔ کلسٹر بم اپنے اندر دسیوں بلکہ سینکڑوں چھوٹے بم سموئے ہوتے ہیں جو اس بم کے پھٹنے کے بعد وسیع علاقے تک پھیل جاتے ہیں اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ اکثر اوقات ان چھوٹے بموں کی بڑی تعداد موقع پر نہیں پھٹتی اور لینڈ مائنز کی طرح بعد میں جانی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ برطانوی وزیر دفاع مائیکل فالون نے 20 دسمبر کو ایک بیان دیتے ہوئے رسمی طور پر اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ سعودی حکومت نے یمن کے خلاف جاری جارحیت کے دوران کلسٹر بموں کا استعمال کیا ہے۔

اس بارے میں العربیہ نیوز چینل نے سعودی اتحاد کے ترجمان احمد العسیری کے بقول اعلان کیا کہ عالمی قوانین کی رو سے کلسٹر بموں کا استعمال غیرقانونی نہیں، بلکہ بعض ممالک نے 2008ء میں کلسٹر بموں کی ممنوعیت سے متعلق معاہدے پر دستخط کر کے ایسے بم استعمال نہ کرنے کا عہد کر رکھا ہے۔ سعودی عرب اور ہمارے اتحاد میں شامل دیگر ممالک نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے لہذا ہماری طرف سے کلسٹر بموں کا استعمال بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
خبر کا کوڈ : 596092
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب