0
Thursday 2 Feb 2017 21:14

عدالتی حکم پر وزیراعلیٰ سندھ کے تمام مشیر و معاونین خصوصی مستعفی ہوگئے

عدالتی حکم پر وزیراعلیٰ سندھ کے تمام مشیر و معاونین خصوصی مستعفی ہوگئے
اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ کے تمام مشیر اور معاونین خصوصی نے عدالتی حکم کے بعد اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کے تمام مشیران کو ڈی نوٹی فائی کرنے کے حکم کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے تمام غیر منتخب معاون خصوصی اور مشیروں سے استعفے طلب کئے، جس پر غیر منتخب معاونین خصوصی اور مشیروں نے استعفے وزیراعلیٰ کو بھجوا دیئے۔ استعفے بھجوانے والے معاونین خصوصی میں ڈاکٹر قیوم سومرو، نادر خواجہ، بابر آفندی، عمر رحمان ملک، قاسم نوید قمر، برہان چانڈیو اور نوید انتھونی شامل ہیں۔ دوسری جانب مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ اپنا استعفیٰ عدالتی احکامات پر دیا، کیونکہ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں، پیپلز پارٹی کا جو فیصلہ ہوگا قبول کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ حکومت امتیازی سلوک کر سکتی ہے، مگر آئین کیسے امتیازی سلوک کر سکتا ہے، پنجاب، خیبر پختونخوا میں مشیر ہو سکتے ہیں تو سندھ میں کیوں نہیں۔

مشیر برائے لیبر سندھ سینیٹر سعید غنی نے بھی اپنا تحریری استعفیٰ وزیراعلیٰ سندھ کو بھجوایا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ عدالت کی آبزرویشن کے بعد مزید کام کرنا مشکل ہے، جبکہ کرپشن ختم کرنے اور گورننس بہتر بنانے کے اچھے نتائج آنا شروع ہوگئے تھے، لیکن عدالتی فیصلے کے بعد میری کوششوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مرحوم خاتون رہنما فوزیہ وہاب کے بیٹے مرتضیٰ وہاب بھی مستعفی ہونے والوں میں شامل ہیں۔ واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں وزیراعلیٰ سندھ کے مشیران اور معاونین خصوصی کے اختیارات کے خلاف آئینی درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وزیر کے اختیارات کا حق صرف منتخب نمائندگان کو دیا جانا چاہیے، جس پر عدالت نے تمام مشیران کو ڈی نوٹی فائی کرنے کے حکم دیتے ہوئے کہا کہ کوئی مشیر نہ تنخواہ لے سکتا ہے اور نہ ہی وزیر کے اختیارات استعمال کر سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 605996
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش