0
Friday 5 May 2017 18:25

پاراچنار میں دو ہفتوں سے بجلی غائب، عوام صاف پانی سے محروم

پاراچنار میں دو ہفتوں سے بجلی غائب، عوام صاف پانی سے محروم
پاراچنار اور گردونواح میں عوام صاف پانی کے حصول کے لئے دربدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں، دو ہفتوں سے بجلی بند ہونے سے ٹیوب ویلز بند پڑے ہیں۔ جس کے باعث پاراچنار شہر اور ملحقہ علاقوں کے لوگ پینے کے صاف پانی کے لئے ترس رہے ہیں۔ کرم ایجنسی کے صدر مقام پاراچنار میں ایک طرف بجلی دوسری طرف صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ لوئر کرم چھپری میں تیز باد و باراں کی وجہ سے بجلی کے دو مین ہائی ٹرانسمیشن لائن گرگئے تھے جس کی وجہ سے دو ہفتوں سے پاراچنار شہر سمیت اپر کرم کی بجلی بند ہے، جس سے علاقے میں سینکڑوں ٹیوب ویلز بند پڑے ہیں اور علاقہ مکین دور دور سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ پانی کی قلت کے باعث اکثر بچے سکول جانے سے قاصر ہیں کیونکہ وہ دور دور سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ سکول نہ جانے والے بچوں سے بات چیت کرتے ہوئے 9 سالہ صائمہ اور 7 سالہ محمد نے کہا کہ جب سے ان کے علاقے کا ٹیوب ویل بند ہے وہ اپنے علاقے سے ایک کلومیٹر دور سے پانی لانے پر مجبور ہیں اور وہ گزشتہ 4 دنوں سے سکول نہیں جا سکے۔ ایچ آر سی پی HRCPP  کے کوآرڈینیٹر عظمت علی زئی نے کہا کہ پاراچنار میں موجودہ سرکاری بنگلوں کے لئے چار چار پائپ لائن کی موجودگی قابل افسوس ہے، پاراچنار سٹی کے لئے موجود تالاب خالی پڑے ہیں اور آلودہ پانی سے مختلف امراض پھیلنے کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ حکومت ہر سال کروڑوں روپے کے اعلانات کرکے علاقے کے لئے ٹیوب ویلز اور پائپ لائنوں کے دعوے کرتے ہیں مگر افسوس کے اعلانات صرف میڈیا تک محدود ہوتے ہیں۔ پاراچنار الیکٹریشن یونین کے صدر طاہر حسین نے میڈیا کو بتایا کہ ہر سال موسم گرما کے دوران کرم ایجنسی کے ہی کھمبے گرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے واپڈا حکام کو خبردار کیا تھا کہ کرم ایجنسی کو جتنے بھی ہائی ٹرانسمیشن لائنیں ہیں ان کو باقاعدگی سے چیک کیا جائے تاکہ چوروں کے ہاتھوں سے محفوظ رہے کیونکہ اکثر چور ان مین لائینوں سے بریس پٹیاں اور نٹ بولٹ کھول کر کھباڑ میں فروخت کرتے ہیں، جس کی وجہ سے تیز آندھی اور طوفان آنے کی صورت میں مین لائینیں گر جاتے ہیں۔ دوسری جانب واپڈا حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی مرمت کا کام تیزی سے جاری ہے، 48 گھنٹوں میں بجلی کی بحالی متوقع ہے۔
خبر کا کوڈ : 633724
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے