0
Friday 14 Jul 2017 15:25

امریکہ بین الاقوامی ایٹمی معاہدے کے حوالے سے اپنے موقف پر نظرثانی کرے، محمد جواد ظریف

امریکہ بین الاقوامی ایٹمی معاہدے کے حوالے سے اپنے موقف پر نظرثانی کرے، محمد جواد ظریف
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کو ایک عالمی معاہدہ قرار دیتے ہوئے تاکید کی ہے کہ امریکہ کو اس بین الاقوامی معاہدے کے سلسلے میں اپنے موقف پر نظرثانی کرنا چاہئے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے نیویارک پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی سمجھوتہ ایک عالمی معاہدہ ہے، جس پر تمام فریقین کا اتفاق ہے اور یہ کئی برس کے مذاکرات اور گفتگو کے بعد طے پایا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ معاہدے کے تمام فریق اس کی پابندی کریں گے، لیکن افسوس کہ اب تک ہم نے یہ دیکھا ہے کہ امریکہ نے اپنے غلط رویئے اور پالیسیوں سے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں کہ ایران اس معاہدے سے اس طرح فائدہ نہیں اٹھا پایا، جو اس کا حق ہے۔ جواد ظریف نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ امریکی حکام کو اس معاہدے کے سلسلے میں اپنے موقف اور رویئے پر نظرثانی کرنا چاہئے، کیونکہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو اس معاہدے کا جاری رہنا مشکل ہو جائے گا۔ امریکی حکومت آئندہ پیر تک ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں ایران کی کارکردگی اور پابندی کئے جانے کے بارے میں اپنی رپورٹ کانگریس میں پیش کرے گی۔ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے اپریل میں کانگریس میں اپنی پہلی رپورٹ میں ایران کی جانب سے ایٹمی سمجھوتے کی پابندی کا اعتراف کرتے ہوئے تہران پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا تھا۔

ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے لئے مشترکہ جامع ایکشن پلان کو کمزور کرنا ایک ایسا ڈرامہ ہے، جو ٹرمپ حکومت ایران کی جانب سے ایٹمی سمجھوتے کی پابندی کا اعتراف کرنے کے باوجود اپنے ایجنڈے میں شامل کئے ہوئے ہے۔ امریکہ کے اس طرز عمل کے ساتھ ہی امریکی جریدے ویکلی اسٹینڈرڈ نے اپنے نئے شمارے میں لکھا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بارے میں ٹرمپ کے افکار سے باخبر چار ذریعوں نے اسے بتایا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی پابندی کی دوبارہ تصدیق کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل امریکہ کے اڑتیس ریٹائرڈ جرنیلوں نے ٹرمپ کے نام اپنے پیغام میں مشترکہ جامع ایکشن پلان کی حمایت کرتے ہوئے تاکید کی تھی کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کو پھاڑنا یا اس کی پابندی نہ کرنا یقیناً ایک بڑی غلطی ہوگی۔ مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بارے میں دیگر ممالک کے الگ موقف کے پیش نظر امریکہ اس سلسلے میں تنہا ہوگیا ہے اور اس کی جانب سے یکطرفہ اقدامات جاری رہنے سے امریکی حکومت عالمی برادری میں الگ تھلگ پڑ جائے گی اور اسے مزید غیر ذمہ دار حکومت سمجھا جائے گا۔ اس سلسلے میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے مشترکہ جامع ایکشن پلان کا جائزہ لینے کے اقدام کا احترام کرتی ہیں، تاہم یورپی یونین ایران کے ساتھ اشتراک عمل کو جاری رکھے گی۔
خبر کا کوڈ : 653377
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش