0
Tuesday 25 Jul 2017 16:57
ایران اپنے کسی بین الاقوامی حق سے دستبردار نہیں ہوگا، باقر نوبخت

ایٹمی معاہدے کی مخالفت امریکہ کو مہنگی پڑیگی، معاہدے کی مخالفت سے خود امریکیوں کو نقصان پہنچے گا، ڈاکٹر علی لاریجانی

ایران کو امریکی پابندیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے، ڈاکٹر علی اکبر ولایتی
ایٹمی معاہدے کی مخالفت امریکہ کو مہنگی پڑیگی، معاہدے کی مخالفت سے خود امریکیوں کو نقصان پہنچے گا، ڈاکٹر علی لاریجانی
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ سمجھتا ہے کہ آئی اے ای اے کے معائنے کی سطح مناسب نہیں ہے تو اسے کم کیا جا سکتا ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے منگل کو تہران میں میڈیکل سائنس یونیورسٹیوں کے بورڈ آف ٹرٹسٹیز کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر تاکید کی کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کی مخالفت سے خود امریکیوں کو نقصان پہنچے گا۔ ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ ایران امریکیوں کے رویئے کے لحاظ سے کافی اقدامات انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر علی لاریجانی نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی کے سلسلے میں امریکیوں کی پابندیوں کے بارے میں کہا کہ امریکیوں کے حالیہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں ہیں اور جب سے امریکی سینیٹ نے معاملے میں میں دخل دینا شروع کیا ہے، اس وقت سے انہیں اندرونی طور پر مخالفت کا سامنا ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ ایران اور روس کے خلاف حالیہ پابندیوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور اس سلسلے میں مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔ ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ امریکیوں نے ماضی میں بھی بہت سی وعدہ خلافیاں کی ہیں اور اس وقت بھی رخنہ اندازی کر رہے ہیں، خاص طور پر اس دور میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر مشترکہ جامع ایکشن پلان کی مخالفت کی جائے گی تو ان کے فائدے میں ہے، جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ ایٹمی سمجھوتے کی مخالفت خود امریکہ  کے نقصان میں ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ تہران بہترین ایٹمی صلاحیتوں کا حامل ہے اور نہایت تیزی سے حالات کو تبدیل کرسکتا ہے۔ اگر امریکی یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کے لئے آئی اے ای اے کے معائنے کی سطح اچھی نہیں ہے تو اسے کم کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب حکومت ایران کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم ایران کے بین الاقوامی حقوق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ حکومت کے ترجمان محمد باقر نوبخت نے تہران میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چاہے نئی پابندیوں کی منظوری ہو یا پرانی پابندیوں کی تکرار ہو، دونوں صورتیں، مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی ہیں اور ایران اپنے کسی بین الاقوامی حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ حکومت ایران کے ترجمان محمد باقرنوبخت نے کہا کہ ایران کی عدلیہ کے فیصلے میں مداخلت بلا جواز ہے اور اس کا جواب دیا جائے گا۔ ایران کی حکومت کے ترجمان نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ہم پہلی بار امریکہ کی جانب سے اس طرح کی غیر منطقی باتیں نہیں سن رہے ہیں، کہا کہ ایران ان باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ دوسری جانب بین الاقوامی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکہ، گذشتہ اڑتیس برس میں کبھی اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ نیک نیتی سے پیش نہیں آیا ہے، کہا کہ ایران کو امریکی پابندیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے واشنگٹن کی جانب سے ایران اور روس کے خلاف نئی پابندیاں عائد کئے جانے کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران، روس اور چین سمیت دنیا کے بہت سے ممالک کے ساتھ تعمیری تعلقات اور باہمی اعتماد کے ساتھ اپنے مسائل حل کرسکتا ہے۔ امریکی سینیٹ نے پندرہ جون کو تہران اور ماسکو کے خلاف اپنے مخاصمانہ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے روس اور ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے بل کو منظوری دی، تاہم ریپبلکن پارٹی کی جانب سے اس بل میں شمالی کوریا کا نام شامل کئے جانے کے بعد ایوان نمائندگان میں اس بل پر ووٹنگ ملتوی ہوگئی۔
خبر کا کوڈ : 656237
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب