0
Sunday 24 Sep 2017 20:07

دہشتگرد عزادار بن کر، بھکاری، پولیس اہلکار، مولوی جیسے حلیوں میں آ سکتے ہیں، رپورٹ میں انکشاف

کسی بھی ممکنہ تخریبی کارروائی سے نمٹنے کیلئے لاہور پولیس پوری طرح چوکس رہے گی،ڈی آئی جی
دہشتگرد عزادار بن کر، بھکاری، پولیس اہلکار، مولوی جیسے حلیوں میں آ سکتے ہیں، رپورٹ میں انکشاف
اسلام ٹائمز۔ محرم الحرام میں دہشتگردی کے خطرے کے پیش نظر ملک بھر میں اہم سیاسی شخصیات اور حساس مقامات پر دہشتگردوں کے حملوں کو روکنے کیلئے انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلی مرتبہ پنجاب پولیس، آئی بی، حساس اداروں، سپیشل برانچ، کاؤنٹر ٹیررازم سمیت ایسی ایجنسیاں جو دہشتگردوں کے خطرناک عزائم کو روکنے کی ذمہ دار ہیں، انہیں اہم ٹاسک دیا گیا ہے۔ پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے تمام انتظامات مکمل کر لئے ہیں اور اس سلسلہ میں ذمہ دار افسروں نے گزشتہ روز حتمی شکل بھی دیدی ہے۔ لاہور سمیت پنجاب کے دیگر بڑے شہروں میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا جبکہ داخلی راستوں پر خصوصی چیکنگ کے احکامات جاری کرکے اہلکاروں کی تعداد بڑھا دی گئی اور ہر آنے جانیوالی گاڑی کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ حفاظتی انتظامات کے سلسلہ میں تمام بڑی امام بارگاہوں، مساجد اور عبادت گاہوں کی انتظامیہ سے ملکر سکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ امام بارگاہوں، مساجد اور عبادت گاہوں کی اپنی سکیورٹی بھی حفاظتی ڈیوٹی پر موجود رہے گی جبکہ مجالس کے قرب و جوار میں پارکنگ کو ممنوعہ قرار دیا گیا ہے، عزاداروں کو میٹل ڈیٹکٹر سے چیک کرنے کے بعد مجالس میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ علاوہ ازیں مجالس والے مقامات پر سادہ کپڑوں میں بھی اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔ ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے کہا ہے کہ لاہور پولیس محرم خصوصاً یوم عاشور کے موقع پر شہریوں کو مکمل امن و امان اور سکیورٹی فراہم کرے گی۔ اس موقع پر امن و امان کی فضا کے قیام اور کسی بھی ممکنہ تخریبی کارروائی سے نمٹنے کیلئے لاہور پولیس پوری طرح چوکس رہے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ڈویژنل ایس پیز، سپر وائزری پولیس آفیسرز، ایس ایچ اوز، اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور سب انسپکٹر موبائل سکواڈز کی موثر پٹرولنگ یقینی بنائیں، اس ضمن میں افسران کی بھی ڈیوٹی لگا دی گئی ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے آگاہ کیا کہ لاہور پولیس نے محرم کے موقع پر امن وامان برقرار رکھنے کیلئے ایک جامع سکیورٹی پلان ترتیب دیا ہے جس کے تحت 16 ہزار سے زائد پولیس جوان اپنے فرائض سر انجام دیں گے اور صوبائی دارالحکومت میں نو اور دس محرم کے موقع پر تمام اہم امام بارگاہوں کو مکمل فول پروف سکیورٹی فراہم کریں گے۔ ڈاکٹر حیدر اشرف نے بتایا کہ شہر کے داخلی راستوں کی کڑی نگرانی اور اہم سرکاری عمارتوں، بس، ویگن اسٹینڈز اور مزاروں پر سادہ کپڑوں میں نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے، دہشتگرد عزادار بن کر، بھکاری، پولیس اہلکار، مولوی جیسے حلیوں میں آ سکتے ہیں، اسی لئے پولیس کو جدید اسلحہ اور دیگر سکیورٹی اداروں کو جدید آلات فراہم کئے جا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ آئی جی پنجاب پولیس نے تمام امام بارگاہوں اور بالخصوص مرکزی امام بارگاہوں، کربلا گامے شاہ اور داتا دربار پر واک تھرو گیٹ اور میٹل ڈٹیکٹر کے ذریعے پارکنگ کی چیکنگ کی جائے گی۔ اس موقع پر عوام الناس سے بھی التماس کی گئی ہے کہ وہ اپنے اردگرد مسلح افراد، مشکوک محلے دار یا مشکوک اشیاء دیکھیں تو فوری طور پر پولیس کو 15 پر اطلاع دیں تاکہ معاشرے کو ان جرائم پیشہ ناسوروں سے نجات دلائی جا سکے۔ آئی پنجاب پولیس نے پولیس افسران و اہلکاروں کو یہ بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ پولیس کے جعلی کارڈ آویزاں کرکے بھی دہشتگرد واردات کر سکتے ہیں لہذا س ضمن میں ناکوں پر تلاشی کے دوران مکمل چھان بین کی جائے۔ پولیس و دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شہر کے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن کرکے مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیں۔ علاوہ ازیں درباروں، اہم سرکاری عمارات، بس و ویگن اسٹینڈز اور کاروباری و تجارتی مراکز پر بھی سادہ کپڑوں میں ڈیوٹیوں پر پولیس اہلکار، ایلیٹ فورس کے کمانڈوز و دیگر ایجنسیوں کے اہلکار مامور کئے جائیں۔
خبر کا کوڈ : 671649
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے