0
Friday 1 Dec 2017 18:49

ہم سب پر فرض ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کے پیغام امن عالم و انسانیت اور پیغام وحدت و اخوت کو عام کریں، پسند رضوی

ہم سب پر فرض ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کے پیغام امن عالم و انسانیت اور پیغام وحدت و اخوت کو عام کریں، پسند رضوی
اسلام ٹائمز۔ اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے مرکزی صدر سید پسند علی رضوی نے 12 تا 17 ربیع الاول ''ہفتہ وحدت" بفرمان حضرت امام خمینیؒ کی مناسبت سے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ طلوع نور یعنی رحمت للعالمین حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آمد پروردگار عالم کی جانب سے احسان عظیم ہے، امام الانبیاء، سید الاوصیاء، فخر کائنات، رحمت للعالمین، حبیب خدا، حضرت محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آمد اللہ کی جانب سے اپنے بندوں پر انعام عظیم ہے، آپ کی آمد سے ہی انسان کو اپنے خالق کی بارگاہ میں سرخرو ہونے کا موقع میسر آیا، آپ تمام علوم کا سرچشمہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی رحمت سے صرف ایک خاص مکتب فکر یا صرف انسان ہی فیضیاب نہیں ہوئے، بلکہ چرند پرند سمیت کائنات میں وجود رکھنے والی ہر شے آپ کی رحمت سے بہرہ مند ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی ولادت باسعادت کے موقع پر آپ سے محبت اور عشق رکھنے والے اپنے اپنے انداز میں آپ کے حضور گلہائے عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دنیا کے سامنے اسلام کا ایسا جامع نظام پیش کیا، جو انسانی اقدار اور تہذیب و اخلاق سمیت حیات انسانی کے ہر پہلو کو تحفظ و ناموس فراہم کرتا ہے۔ پسند رضوی نے کہا کہ سید الانبیاء امام المرسلین سے منسوب ایام کو ہفتہ وحدت بین المسلمین کے طور پر منانے کا فلسفہ پوری ملت اسلامیہ کو اتحاد و یگانگت کی لڑی میں پروتا ہے، امام خمینیؒ نے 12 تا 17 ربیع الاول کو ہفتہ وحدت کے نام سے موسوم کیا ہے، ہفتہ وحدت اپنے دامن میں بے شمار برکات و ثمرات سمیٹے ہوئے ہے، جس کے اثرات سے پوری نسل آدم فیضیاب ہو رہی ہے۔

پسند علی رضوی نے کہا کہ انسان کو اپنے خالق سے روشناس کرانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے حیات انسانی کے ہر دور میں اپنے پیغمبر بھیجے، جنہوں نے اللہ کے پیغام کو بندوں تک پہنچا کر انہیں اس قابل بنایا کہ وہ اپنے خالق کی خوشنودی و رضا کیلئے اسی کے بتائے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں، روئے زمین پر جتنے بھی پیغمبر آئے، سب نے اپنے فرائض کے تحت تعلیمات الہی کو اللہ تعالیٰ کے بندوں تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ احکام خداوندی، اپنے تمام اصول و ضوابط کے ساتھ مکمل ہونے تک نبوت کا دروازہ کھلا رہا اور اللہ نے یکے بعد دیگرے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر روئے زمین پر بھیجے، ہر رسول و پیغمبر کی رحلت کے بعد اس کی امت نے اپنے نبی کی تعلیمات کو بھلا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب انسان اپنی قدر و منزلت سے غافل، جہالت و ضلالت کی دلدل میں غرق، احساس محرومی کی زندگی بسر کر رہا تھا، بنت حوا شعور کی آنکھ کھولنے سے قبل صحرا کی تپتی ریت میں ہمیشہ کیلئے زندہ درگور ہو جاتیں تھیں، فتنہ و فساد اور شر نے حیات انسانی کو اپنی گرفت میں جکڑ رکھا تھا، عجیب عالم بےچارگی تھا، انسانیت اقدار کی ردا گنوا کر تپتے صحراؤں میں سسکتی، بلکتی مسیحا کو آوازیں دے رہی تھی، ایسے میں اس نور مبین کی آمد ہوئی، جس نے جہالت کے اندھیروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور علم و حکمت و دانش کا ایسا چراغاں کیا کہ نگاہ بشر اس کی چکاچوند کی تاب نہ لاتے ہوئے خود بخود سجدہ ریز ہوگئیں۔

انہوں نے کہا کہ حضرت محمدؐ ہی وہ پاک و پاکیزہ ہستی ہے جو اللہ کی بہت زیادہ محبوب ہے، جس کیلئے پوری کائنات کو خلق کیا گیا، جن سے محبت و عقیدت اور عشق رکھنے والوں کیلئے جنت انعام مقرر ہوئی اور ان سے بغض و عداوت رکھنے والوں اور اس ہستی کے صفات و معجزات اور سیرت و کردار پر شک کی نظر کرنے والوں کیلئے دوزخ وجود میں لائی گئی۔ پسند علی رضوی نے کہا کہ اللہ نے لاکھوں انبیاء، رسل، اولیاء، اوصیاء اپنے بندوں کو صراط مستقیم سے روشناس کرانے کیلئے بھیجے اور ان تمام کو مختلف علوم و فنون، معجزات اور فضیلت و کرامات سے نوازا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان تمام فضائل و کرامات اور معجزات کا سرچشمہ بنایا اور آپ کی ذات مبارک کے ہر پہلو کو اتنا مکمل خلق کیا کہ کائنات کے تمام ظاہری و مخفی علوم آپ کی شخصیت کا حصہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کا دائرہ اس قدر وسیع ہونے کے باوجود آپ نے دنیا میں بسنے والے تمام مسلمانوں کو ایک جسم قرار دیا اور فرمایا کہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اور اگر جسم کے ایک حصہ میں تکلیف ہو گی تو پورا جسم بےچین ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ماہ ربیع الاول وہ مبارک مہینہ ہے، جب حضور اکرم (ص) اس دنیا میں تشریف لائے اور اپنے نور سے عالم کو منور فرمایا، جس کے باعث ہر مسلمان کیلئے یہ مہینہ یکساں عقیدت و احترام کا حامل ہے۔

مرکزی صدر اصغریہ علم و عمل نے کہا کہ امام الانبیاء خاتم المرسلین سید العالمین کی ولادت باسعادت کے مبارک موقع کو پوری دنیا میں ہفتہ وحدت 12 تا 17ربیع الاول کے طور پر منایا جاتا ہے، تمام مسلمان اس مبارک موقع پہ حضور نبی کریم (ص) کے ذکر سے محافل آباد کرتے ہیں اور آپ کی نمونہ عمل سیرت و کردار کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں، ربیع الاول کے بابرکت مہینے میں ہفتہ وحدت، ذکر رسالت مآب سے منور و روشن ہے، جس کے ثمرات و برکات کا کوئی احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ پسند علی رضوی نے کہا کہ حضرت امام خمینیؒ نے انقلاب اسلامی کے پہلے سال ہی ہفتہ وحدت کا اعلان کرکے مسلمانوں کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینے کی جو کوشش کی ہے، یقیناً وہ قابل ستائش ہے، ان کا یہ کارنامہ ان کی اسلام سے دلی وابستگی اور عشق رسول کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی باشعور، باحس اور زندہ قومیں اپنے رہنماؤں اور قائدین کو ان کے یومِ ولادت کی مناسبت سے یاد کرکے اپنی عقیدتوں کے نذرانے پیش کرتی ہیں، پیغمبر اسلام (ص) کی ذات باعث رحمت العالمین ہے، ان کا ذکر باعث رحمت ہے، عین عبادت ہے، ان کی ولادت کے موقع پر ان کی یاد کو قائم کرنا اور آپ (ص) کی تعلیمات کو عام کرنا نہ صرف عقیدت و فرض شناسی ہی نہیں، بلکہ آپ کا ہم پر یہ حق بھی ہے کہ آپ کے پیغام امن عالم و انسانیت اور پیغام وحدت و اخوت کو عام کریں، اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کو یہ فخر حاصل ہے کہ وہ رسول اسلام کے پیغام اخوة المسلمین کو عام کرتے ہوئے میلادالنبی کے موقع پر ہفتہ وحدت کا اہتمام کرتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 686982
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے