0
Monday 25 Dec 2017 18:24
سعودی حکام کا خیال تھا کہ سعد حریری کے استعفے سے "حزب اللہ" مخالف مظاہرے پھوٹ پڑینگے

سعد حریری کو مستعفی ہونے کیلئے سعودیہ نے مجبور کیا، امریکی اخبار کا دعویٰ

سعد حریری سے انکا موبائل فون بھی لے لیا گیا اور سوائے ایک حفاظتی گارڈ کے تمام گارڈز کو بھی ان سے الگ کر دیا گیا تھا
سعد حریری کو مستعفی ہونے کیلئے سعودیہ نے مجبور کیا، امریکی اخبار کا دعویٰ
اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنانی وزیراعظم سعد حریری کو سعودی عرب کے دورے کے دوران عہدے سے استعفٰی دینے کے لئے مجبور کیا گیا۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعید حریری، سعودی فرمانروا محمد بن سلمان کے ساتھ دن گزارنے کی امید لے کر ریاض آئے تھے، لیکن وہاں سکیورٹی فورسز کی جانب سے ان سے بدسلوکی کی گئی اور وزارت عظمٰی کے عہدے سے استعفٰی دینے کے لئے مجبور کیا گیا۔ رپورٹ میں نام ظاہر کئے بغیر لبنانی اور مغربی عہدیداران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ سعد حریری کو، جو سعودی پاسپورٹ بھی رکھتے ہیں، غیر ملکی سفارتکاروں کی جانب سے لابنگ کے بعد رہا کیا گیا۔ سعد حریری سے ان کا موبائل فون بھی لے لیا گیا اور سوائے ایک حفاظتی گارڈ کے تمام گارڈز کو بھی ان سے الگ کر دیا گیا تھا، جبکہ یہ سب انہیں مستعفی ہونے کی پہلے سے لکھی ہوئی تقریر دیئے جانے سے قبل ہوا۔ رپورٹ میں مغربی سفارتکاروں اور لبنانی عہدیداران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ سعودی حکام کا خیال تھا کہ سعد حریری کے استعفے سے "حزب اللہ" مخالف مظاہرے پھوٹ پڑیں گے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے سینیئر عہدیدار ڈیوڈ ایم سیٹرفیلڈ نے لبنان کو غیر مستحکم کرنے کے اس اقدام پر سعودی عرب کی سخت سرزنش کی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے قریبی سعد حریری نے 4 نومبر کو اچانک اپنے عہدے سے استعفٰی دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے اپنی زندگی کو ٹارگٹ کرنے کے لئے بنائے گئے پوشیدہ منصوبے کو محسوس کر لیا ہے۔ سعد حریری کی جانب سے اپنے عہدے سے استعفے کے اعلان کے بعد لبنان میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا تھا جبکہ حکام کی جانب سے سعودی عرب پر وزیراعظم کی حراست کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے، جہاں وہ مستعفی ہونے کے بعد دو ہفتوں تک رہے تھے، تاہم سعد حریری نے سعودی عرب کی جانب سے حراست میں رکھنے کی افواہوں کو رد کر دیا تھا اور فرانس کی دعوت پر پیرس کے دورے کے لئے 18 نومبر کو سعودی عرب چھوڑنے کا اعلان کیا۔ سعد حریری اپنے دورہ فرانس کے بعد مصر اور قبرص میں رکے اور وہاں سے بیروت پہنچے اور ملک کے 74 یوم آزادی کے جشن کے موقع پر سامنے آئے اور میڈیا سے بات چیت کی۔ بعد ازاں انہوں نے لبنانی صدر میشال عون کی درخواست پر اپنے استعفے کے فیصلے کو معطل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
خبر کا کوڈ : 692458
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب