0
Wednesday 31 Jan 2018 12:47

جونیئر پولیس افسران کی سینئر پوسٹوں پر تعیناتی سے حالات مزید خراب ہونگے، محمد نور مسکانزئی

جونیئر پولیس افسران کی سینئر پوسٹوں پر تعیناتی سے حالات مزید خراب ہونگے، محمد نور مسکانزئی
اسلام ٹائمز۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے بلوچستان پولیس میں سینئر اور پی ایس پی کیڈر افسران کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ بلوچستان میں سینئر افسران کی تعیناتی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے واضح احکامات ہیں۔ جونیئر افسران کی سینئر پوسٹوں پر تعیناتی سے حالات مزید خراب ہونگے۔ وفاق اگر پی ایس پی افسران بلوچستان میں تعینات نہیں کریگا تو ایس پی اور ڈی ایس پی لیول کے افسران کو لگانا پڑے گا۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی اور جسٹس جمال احمد مندوخیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پولیس میں سینئر اور پی ایس پی کیڈر افسران کی تعیناتی کیس کی سماعت کی۔ سماعت میں اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان شہک بلوچ نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی پولیس نے صوبے میں پی ایس پی افسران کی تعیناتی سے متعلق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خط لکھا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے مراسلے کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جواب دائر کرنے کیلئے مہلت مانگ لی۔ انہوں‌ نے کہا کہ کیس کی آئندہ سماعت میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جواب دائر کریں گے۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ محمد نور مسکانزئی نے ریمارکس دیئے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن پولیس کے گریڈ 18 سے 21 تک کے افسران کی تعیناتی عمل میں لائے۔ افسران کی کمی کے باعث گریڈ 21 کی 4 آسامیوں سمیت 57 پی ایس پی افسران کی پوسٹس خالی ہیں، جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت مارچ کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔
خبر کا کوڈ : 701061
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب