0
Wednesday 21 Mar 2018 18:27

عدالتی کاروائی سے 7 ارب ڈالر کے فارن کرنسی اکاؤنٹس ہولڈرز کے لیے غیر ضروری خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، مشیر محصولات

عدالتی کاروائی سے 7 ارب ڈالر کے فارن کرنسی اکاؤنٹس ہولڈرز کے لیے غیر ضروری خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، مشیر محصولات
اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے عدالتی معاون محصولات مشیر محمود مانڈوی والا نے عدالتِ عظمیٰ میں تجویز پیش کی ہے کہ معیشت سے متعلق کیسز میں احتیاط برتی جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ پاکستان میں 7 ارب ڈالر کے بیرونِ ملکی کرنسی اکاؤنٹس رکھنے والوں کے لیے غیر ضروری طور پر خطرہ منڈلانے لگے۔ خبررساں ادارے کے مطابق معروف محصولات مشیر محمود مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ چونکہ پاکستان کی معیشت بین الاقوامی تجارت سے جڑی ہوئی ہے اس لیے ہمیں معیشت سے متعلق کیسز میں باریک بینی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ اس وقت ہمارا بیرونِ ملک کرنسی کا دور فی الحال آزاد خیال کا اس لیے ہمیں بین الاقوامی کرنسی اکاؤنٹس رکھنے والوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہے، اور اس کی نگرانی کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان کے شہریوں کے بیرونِ ملک جائیداد اور بینک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ کے سامنے کیا۔

واضح رہے کہ مذکورہ کیس کی گزشتہ سماعت کے دوران ہی سپریم کورٹ نے معروف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ شبر زیدی اور معروف محصولات مشیر محمود مانڈوی والا کو پاکستان سے غیر قانونی طریقے سے بیرون منتقل کرنے کی روک تھام کے لیے قوانین بنانے کے لیے عدالتی معاون مقرر کیا تھا۔ 20 مارچ کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یہ اشارہ دیا کہ ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جاسکتا ہے جو اپنی تجاویز حکومت اور پارلیمنٹ کو پیش کر سکتا ہے جس کا مقصد ایسا قانون وضع کرنا ہے جس کی مدد سے ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جاسکے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ ہمارے سامنے دو سوالات ہیں، ایک یہ کہ ملک کی لوٹی ہوئی دولت کس طرح واپس لائی جائے اور دوسرا یہ کہ کس طرح ملکی دولت کو بیرونِ ملک جانے سے روکا جائے۔ چیف جسٹس نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ان مسائل کو نظر انداز کرنے سے پاکستان کی معیشت کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ یہ بھی یاد دلایا کہ کس طرح رکو ڈک اور کارکے کیسز نے پاکستان کو پریشانی میں مبتلا کیا۔ سیکریٹری فنانس نے عدالت کو بتایا کہ حکومت بیرونِ ملک بینک اکاؤنٹس رکھنے والے افراد کی نشاندہی کرنے کے لیے متعلقہ قوانین میں ترمیم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی مدد سے دولت بیرونِ ملک لے جانے کافی مدد ملے گی۔
خبر کا کوڈ : 712997
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب