0
Friday 31 Aug 2018 18:52

خیبر پختونخواہ، ضمنی الیکشن میں ٹکٹوں کی تقسیم پر موروثی سیاست ایک بار پھر غالب

خیبر پختونخواہ، ضمنی الیکشن میں ٹکٹوں کی تقسیم پر موروثی سیاست ایک بار پھر غالب
اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف جو موروثی سیاست کی مخالف سمجھی جاتی ہے لیکن اس بار آنے والے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے بڑوں نے خالی نشستوں پر اپنے خاندان کے افراد کو ٹکٹوں سے نوازا ہے۔ پی ٹی آئی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔ خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی 9 نشستوں کے لئے 14 اکتوبر الیکشن ہونے والے ہیں اور ضمنی الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا مرحلہ مکمل ہوگیا۔ نوشہرہ کی دو صوبائی نشستیں پی کے 61 اور پی کے 64 جو پرویز خٹک نے جیتی تھیں، ان حلقوں پر ضمنی الیکشن کے سلسلے میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا۔ پی ٹی آئی نے پی کے 61 نوشہرہ ون کے لئے پرویز خٹک کے چھوٹے صاحبزادے محمد ابراھیم خٹک اور پی کے 64 نوشہرہ فور پر اپنے چھوٹے بھائی سابق ضلع ناظم اعلٰی نوشہرہ، لیاقت خٹک کو تحریک انصاف کا ٹکٹ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے بھی اپنے بھائی حکیم اللہ کو میدان میں اتار لیا ہے اور انہوں نے پی کے 44 کاغذات جمع کرائے ہیں، تاہم اس حلقے میں پی ٹی آئی کی جانب سے دیگر امیدواروں نے بھی کاغذات جمع کرائے ہیں۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 53 بنوں، جو وزیراعظم عمران خان نے خالی چھوڑی تھی، اب اس نشست پر سابق وفاقی وزیر اکرم خان درانی کے بیٹے ناصر درانی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ڈی آئی خان 97 سے سابق صوبائی وزیراعلٰی امین گنڈاپور نے اپنے بھائی فیصل امین گنڈا پورکو میدان میں اتار لیا ہے، پی کے 99 جو پی ٹی آئی کے امیدوار اکرام اللہ گنڈاپور کی شہادت سے خالی ہوئی تھی، اس نشست سے ان کے بیٹے آغاز سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمان کے بھائی عبیدالرحمان ہیں جبکہ سابق صوبائی وزیر ثناءاللہ میاں خیل کے بھائی فتح اللہ میاں خیل نے بھی کاغذات جمع کرا رکھے ہیں۔ پی کے 78 پشاور میں اے این پی کے ہارون بلور کی شہادت کے باعث الیکشن نہ ہو سکے اب ضمنی الیکشن میں شہید ہارون بلور کی بیوہ ثمر بلور الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 747240
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب