0
Thursday 13 Sep 2018 18:13

پشاور، میٹرو روٹ کیساتھ منفرد سائیکل ٹریک بھی تعمیر ہوگا

پشاور، میٹرو روٹ کیساتھ منفرد سائیکل ٹریک بھی تعمیر ہوگا
اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کے 28 کلو میٹر کوریڈور کے ساتھ سائیکل ٹریک کی تعمیر کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ جہاں میٹرو بس کے ساتھ ساتھ عوام کیلئے سائیکلیں بھی کرایہ پر دستیاب ہوں گی۔ سرکاری کپمنی ٹرانس پشاور کے کمیونیکشین منیجر نعمان منظور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنی نوعیت کا منفرد سائیکل ٹریک پاکستان میں پہلی بار متعارف کرایا جا رہا ہے۔ یہ ٹریک بی آر ٹی کے ساتھ ساتھ سڑک کنارے اور فلائی اوورز کے نیچے سے گزرے گا۔ واضح رہے کہ ٹرانس پشاور خیبر پختونخوا حکومت کی ملکیت ہے اور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبہ مذکورہ کمپنی کے سپرد ہے۔ اس منفرد بائیک شیئرنگ منصوبے کیلئے ابتدائی طور پر 360 سائیکلیں خریدی جائیں گی۔ سائیکل کے استعمال اور واپس کرنے کیلئے ’’Zu‘‘ کارڈ متعارف کرایا جائے گا اور وہی کارڈ سائیکل کے ساتھ میٹرو بس میں بھی استعمال کیا جاسکے گا۔

انگلش کے دو حروف تہجی پر مشتمل اس حرف کا تلف ’زو‘ ہے اور زو پشتو میں چلنے کا کہتے ہیں۔ یہ کارڈ ٹرانس پشاور کمپنی کی جانب سے جاری کیا جائے گا۔ رجسٹریشن کے بعد کارڈ کے حامل افراد اپنے اسمارٹ فون کی ایپ یا ویب سائٹ کے ذریعے کارڈ کا اسٹیٹیس چیک کرسکیں گے۔ اس سائیکل اور میٹرو بس کا کرایہ بھی یکساں ہوگا۔ اس مقصد کیلئےخصوصی طور پر تیار کردہ سائیکلیں خریدی جائیں گی۔ ان سائیکلوں کی سیٹ اوپر نیچے ہوسکے گی تاکہ ہر قد کا فرد اسے آسانی کے ساتھ استعمال کرسکے۔ خصوصی طور پر تیار کردہ سائیکل ’اسٹپ تھرو فریم‘ والی ہوگی۔ اس قسم کے سائیکل میں ہینڈل کو سیٹ سے منسلک کرنے کیلئے اوپر والا راڈ نہیں ہوتا بلکہ نچے پیڈل کے پاس سے ایک راڈ ہینڈل تک جاتا ہے۔

اس کو ’لیڈیز سائیکل‘ بھی کہا جاتا ہے۔ نعمان منظور کے مطابق کمپنی صنفی برابری کے بارے میں انتہائی سنجیدہ ہے اور چاہتی ہے کہ ان سہولیات سے ہر صنف کے افراد فائدہ اُٹھا سکیں۔ اسٹیپ تھرو سائیکل کا مقصد ہی یہی ہے کہ مرد و خواتین بغیر کسی رکاوٹ کے استعمال کرسکیں۔ اس سائیکل کا انتخاب پشاور کی خواتین کی کلچرل ضروریات کے مطابق کیا ہے، تاکہ ان کیلئے زیادہ موزوں رہے۔ سائیکل میں خود کار ایل ای ڈی لائٹ اور ریفلیکٹرز نصب کئے گئے ہیں جو اندھیرے میں خود بخود آن ہوجائیں گے۔ سائیکل سوار کی حفاظت کو زیادہ بہتر بنانے کیلئے سائیکل چین لیس ہوگی۔ اگر آپ ایک اسٹیشن سے سائیکل لیتے ہیں اور واپس نہیں آتے تو سائیکل اگلے اسٹیشن پر کھڑی کر کے جاسکتے ہیں۔ خالی سائیکلوں کی ترسیل کیلئے ٹرک بھی کھڑے ہوں گے۔ اگر کسی اسٹیشن پر ڈیمانڈ زیادہ ہے تو کسی خالی اسٹیشن سے سائیکل ٹرک میں ڈال کر وہاں پہنچائی جائیں گی۔ سائیکلوں کی چوری روکنے کیلئے بھی فول پروف نظام وضع کیا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 749856
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب