0
Sunday 23 Sep 2018 01:46

بھارت نے ہمیشہ پاکستان کی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کیا، سراج الحق

بھارت نے ہمیشہ پاکستان کی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کیا، سراج الحق
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ خطے میں قیام امن کے لیے پاکستانی کوششوں کا بھارت نے ہمیشہ مذاق اڑایا اور ان کوششوں کا مثبت جواب دینے کی بجائے اسے پاکستان کی کمزوری سمجھا۔ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کیا لیکن عالمی قوتوں، خاص طور پر امریکہ نے بھارت کے اس منفی اور متکبرانہ رویے کا نوٹس لینے کی بجائے اس کی سرپرستی کی۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر متنازعہ علاقہ ہے بھارت نے زبردستی اس پر قبضہ کر رکھا ہے۔ کشمیر میں بھارت مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں ہندوﺅں کو دوسری ریاستوں سے لاکر کشمیر میں آباد کر رہا ہے تاکہ کشمیر میں ہندو آبادی کے تناسب کو بڑھا کر کشمیریوں کی تحریک آزادی کو ختم کر سکے مگر بھارت اپنے ان مکروہ عزائم میں کامیاب نہیں ہوگا۔

سراج الحق نے کہا کہ کشمیری عوام بھارت سے آزادی حاصل کرنے کے لیے جو قربانیاں دے رہے ہیں وہ رائیگاں نہیں جائیں گی۔ حکومت پاکستان کو کھل کر کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کی سرپرستی کرنی چاہیے اور عالمی برادری کو کشمیر میں ہونے والے ظلم و جبر سے آگاہ کرنا چاہیے۔ 27 ستمبر کو وزیرخارجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو سرفہرست رکھیں اور بھارت کے مذاکرات سے مسلسل انکار کو بھی گفتگو کا موضوع بنایا جائے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پشاور کے اجتماع ارکان اور جماعت اسلامی آزاد کشمیر کی شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع ارکان سے ضلعی امیر صابر حسین اعوان نے بھی خطاب کیا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی معاشرے سے ظلم و جبر اور استحصال کا خاتمہ کر کے پاکستان کو ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ہم ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں جس میں نیکی کرنا آسان اور برائی کرنا مشکل ہو جائے اور عام آدمی کو تعلیم، صحت، روزگار اور سستا انصاف میسر ہو۔ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے منشور اور عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں جو وعدے کیے تھے، اب ان کی تکمیل کا وقت ہے۔ پاکستان کو مدینہ کی طرز پر اسلامی ریاست بنانے، ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے اور پچاس لاکھ بےگھر افراد کو چھت مہیا کرنے کے لیے حکومت کو انقلابی اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان کو کرپشن فری ملک بنانے اور معیشت کو سود سے پاک کرنے کے لیے کڑے احتساب اور خود انحصاری کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
 
خبر کا کوڈ : 751575
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے