0
Thursday 27 Sep 2018 17:11

نئے صوبے کے دعوے دھوکہ، حکومت سے اچھے کاموں کی توقع نہیں کی جا سکتی، مولانا فضل الرحمن

نئے صوبے کے دعوے دھوکہ، حکومت سے اچھے کاموں کی توقع نہیں کی جا سکتی، مولانا فضل الرحمن
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عمران خان سے ریاست مدینہ کی نہیں ریاست تل ابیب کی توقع ہے، یہ حکومت اس خطے کو صوبہ بھی نہیں بنا کر دے گی، ان سے کسی بھی اچھے کام کی توقع نہیں کی جاسکتی، مدارس کا دفاع کرنا ہم بخوبی جانتے ہیں، موجودہ حکومت ناکام اور مکمل ایکسپوز ہوچکی ہے، 100 دن کا انتظار تب کیا جاتا اگر یہ 30 دنوں میں ایکسپوز نہ ہو جاتے، اسحق ڈار کو پکڑ کے لاو، اور مشرف صاحب آجائیں یہ انصاف کا دوہرا معیار ہے، سی پیک میں سعودیہ عرب کے علاوہ مزید ممالک کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ قاسم العلوم ملتان گل گشت میں مولانا محمد اکبر، مفتی اظہر اسعدی، محمد عمر شیخ، مولانا حبیب الرحمن اکبر، ناصر موہانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ قومی ادارے کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں، ان اثاثوں پر قوم کا پیسہ خرچ ہوا ہے، بچت کے نام پر بچگانہ حرکت کرنا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے، یہ حکومت عوامی مینڈیٹ کی حامل حکومت نہیں ہے، ان کو ہم تسلیم نہیں کرتے، گورنر ہائوس کو پبلک پلیس بنانے کا کہا جاتا ہے تو کے پی کے گورنر ہاوس کے ساتھ والے گھر کو بھی پبلک پلیس بنایا جانا چاہئے، ہم ماضی کی شکایتوں کو بھول کر مضبوط اپوزیشن بن کر آگے چلنا چاہتے ہیں، 100 دنوں کا انتظار کیا جاتا اگر یہ ایک مہینے میں بے نقاب نہ ہوتے، صبح یہ کچھ بیان دیتے ہیں اور رات کو کچھ بیان دیتے ہیں کہ ہم نے یہ نہیں کہا، ان کا کوئی فیصلہ، مضبوط پالیسی اور مستحکم نہیں ہے، جبکہ پوری مشاورتی کونسل میں جو لوگ بھرتی کئے گئے ہیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ مغربی طرز حکومت لانا چاہتے ہیں، مہنگائی کا طوفان آچکا ہے یہ حکومت غریب آدمی کا خون چوسنے اور زندگی اجیرن کرنے کے لئے آئی ہے، موجودہ حکمرانوں کی خارجہ پالیسی پہلے دن سے ہی ناکام ہو چکی ہے، جو سفارتی تعلقات کے بارے میں نہیں جانتے وہ ہم پر حکومت کر رہے ہیں، اگر پاکستان کو دھمکی دی جاتی ہے تو پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، ہم سب آگے ہوں گے ملک سب کا ہے اور اختلافات کو چھوڑ کرملک کا دفاع کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 752554
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب