0
Sunday 14 Oct 2018 00:14

افغان جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا کے خصوصی نمائندہ کی طالبان سے ملاقات

افغان جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا کے خصوصی نمائندہ کی طالبان سے ملاقات
اسلام ٹائمز۔ افغانستان میں 17 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لئے امریکا کے خصوصی وفد نے طالبان کے نمائندوں سے قطر میں ملاقات کی، جس میں دونوں فریقین نے مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے پر زور دیا۔ طالبان کے ترجمان ذیبح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی نمائندہ زلمے خلیل زاد سے ملاقات جمعہ کجو و قطر میں ہوئی جہاں طالبان کا سیاسی دفتر قائم ہے۔ طالبان کے سیاسی دھڑے کے سربراہ عباس استنکزئی کی زیر قیادت پانچ رکنی وفد نے خلیل زاد سے ملاقات کی اور افغان جنگ کے پرامن اختتام کے طریقوں پر گفتگو کی۔ ملاقات میں طالبان نے موقف اپنایا کہ ان کے لئے افغانستان میں امریکی اور دیگر غیر ملکی افواج کی موجودگی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ طالبان ترجمان کے مطابق دونوں فریقین نے افغانستان سے امریکی افواج کے اچھے انداز میں انخلا کے طریقوں پر گفتگو کی۔

کابل میں امریکی سفارتخانے نے اپنے بیان میں کہا کہ زلمے خلیل زاد ہفتے کو افغان دارالحکومت میں موجود تھے جہاں انہوں نے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی۔ زلمے خلیل زاد کو امریکا نے اپنا نمائندہ خصوصی مقرر کیا تھا جس کے بعد انہوں نے پاکستان، متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور اب قطر سے افغانستان پہنچے تھے۔ تاہم ہفتے کو جاری بیان میں افغان صدر اشرف غنی نے بتایا کہ زلمے خلیل زاد نے ملاقات کے دوران انہیں خطے کے دیگر ممالک کے دوروں کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں بتایا لیکن اس میں طالبان سے ملاقات کا کہیں تذکرہ نہیں کیا گیا۔ خلیل زاد کو رواں ماہ 4 اکتوبر کو نمائندہ خصوصی کی ذمے داری سونپی گئی تھی جس میں انہیں 17سال سے جاری افغان جنگ کے پرامن خاتمے کے راہیں تلاش کرنے کا کام سونپا گیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکا کو 900 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
 
افغانستان میں ازسرنو تعمیرات پر خصوصی انسپکٹر جنرل جان سوپکو نے کہا کہ ان 900 ارب ڈالر میں سے 720 ارب ڈالر امریکی فوجی آپریشنز پر خرچ کئے گئے۔ سوپکو نے رواں سوال کے اوائل میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس جنگ کے نتیجے میں 2400 امریکی اور 1100نیٹو ممالک کے فوجی ہلاک ہوئے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں افغانی بھی مارے گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغان جنگ میں ہونے والے بھاری اخراجات اور اس کے نتیجے میں امریکی معیشت پر پڑنے والے اخراجات کے بڑے ناقد رہے ہیں اور اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے اس جنگ کے خاتمے پر زور دیا تھا۔ اس کے بعد سے امریکی صدر نے نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے اور اپنے ملک میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے کے لئے پاکستان سے مزید کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکا نے کبھی بھی طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
خبر کا کوڈ : 755662
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے