0
Tuesday 20 Nov 2018 23:29

کوئٹہ میں اب بھی دہشتگردی کا خطرہ موجود ہے، عبدالرزاق چیمہ

کوئٹہ میں اب بھی دہشتگردی کا خطرہ موجود ہے، عبدالرزاق چیمہ
اسلام ٹائمز۔ ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے سابق ڈی آئی جی نعیم کاکڑ نے سکیورٹی کا مطالبہ نہیں کیا تھا، واقعہ کی مختلف پہلوؤں پر تفتیش کر رہے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کی سابقہ 15 وارداتوں میں ایک ہی گروپ ملوث تھا۔ دہشتگردی کا عام خطرہ موجود ہے۔ کوئٹہ میں سیکٹر کمانڈر ایف سی بریگیڈئیر تصور کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرازق چیمہ نے بتایا کہ نعیم کاکڑ کو اس وقت نشانہ بنایا گیا، جب وہ نماز پڑھنے کے لئے جا رہے تھے۔ اسپیشل ونگز، ایجنسیاں اور پولیس پہلے سے زیادہ واقعات کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ معلومات جب پختہ ہو جائیں گی تو میڈیا کے ساتھ تبادلہ کیا جائے گا۔ ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی تحقیقات سابقہ واقعات سے جوڑ کر رہے ہیں۔ دہشتگردی کا عام خطرہ موجود ہے، جہاں حساسیت اور اہم شخصیات ٹارگٹ کی جانوں کو خطرہ وہاں آگاہ کر دیا گیا ہے۔

بارہ ربیع الاول کی سکیورٹی کے حوالے سے ڈی آئی جی کوئٹہ نے بتایا کہ عید میلاد النبی پر شہر کے تیرہ مقامات سے جلوس نکالے جائیں گے۔ جلوس مقرر کردہ پوائنٹ سے صبح آٹھ بجے روانہ ہوں گے اور دوپہر ظہر کے وقت اختتام پذیز ہوں گے۔ جلوس کی سکیورٹی پر پولیس، بی سی اور اے ٹی ایف کے 3 ہزار اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔ ایف سی کی نفری اس کے علاوہ ہوگی۔ پہاڑوں پر سکیورٹی کی ذمہ داری لیویز کو سونپی جائے گی۔ ٹریفک کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کے چار سو اہلکار تعینات ہوں گے۔ 12 موٹر سائیکلوں پر 240 جوان جلوس کی بیرونی جانب سکیورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے۔ اسپیشل موبائل یونٹ اور ناکہ جات بھی قائم کئے جائیں گے۔ جلوس کے تمام روٹ پر آنیوالی گلیوں کو ڈیپ پلگنگ کرکے بند کیا جائے گا۔

تمام روٹس کو اسپیشل برانچ، بی ڈی ایس کے ذریعے چیک کیا جائے گا۔ جلوس کے داخلی راستوں پر چھ واک تھرو گیٹس نصب ہوں گے جبکہ ہیلی کاپٹر، سی سی ٹی وی سے بھی جلوس کی نگرانی کی جائے گی۔ جلوس کی مناسبت سے دکانوں، ہوٹلوں، مکانوں مارکیٹوں اور رہائشی علاقوں کا سروے کر لیا گیا ہے۔ ڈیوٹی پر تعینات تمام پولیس، ایف سی اہلکاروں، محکمہ جات کے ملازمین کو سکیورٹی پاس جاری کئے جائیں گے۔ سیف سٹی پراجیکٹ کا منصوبہ محکمہ قانون اور کنسلٹنٹس کے پاس ہے۔ ہم بھی منتظر ہیں کہ سیف سٹی منصوبہ جلد از جلد مکمل ہو، جبکہ ٹریفک اور پارکنگ کے مسائل حل کرنے کے لئے تمام اداروں کو آپس میں رابطے قائم کرتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 762445
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب