0
Friday 4 Jan 2019 20:18

کوئی نیا ٹیکس لگے گا اور نہ 100 ارب کہیں جائیں گے، وزیراعلیٰ محمود خان

کوئی نیا ٹیکس لگے گا اور نہ 100 ارب کہیں جائیں گے، وزیراعلیٰ محمود خان
اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ فاٹا میں 5 سال تک کوئی ٹیکس لاگو نہیں کیا جائے گا، قبائلی اضلاع میں نئے سکول بنائیں گے اور صحت کے مراکز کو آباد کریں گے۔ شاکس لیویز سنٹر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قبائلی عوام کو ان کا حق دلوائے گی اور تمام نقصانات کا ازالہ کرے گی۔ تقریب میں آئی جی ایف سی نارتھ میجر جنرل راحت نسیم، ممبر قومی اسمبلی اقبال آفریدی، ڈی سی خیبر محمود اسلم اور صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر کے علاوہ قبائلی مشران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ قبل ازیں مشران نے ضلع خیبر آمد پر وزیراعلی محمود خان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ قبائلی عوام نے ہمیشہ اپنے ملک سے محبت کا اظہار قربانی دیکر کیا ہے لیکن آج جب قبائلی عوام ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کا انفراسٹرکچر تباہ ہے، سکول اور صحت کے مراکز ویران پڑے ہیں جبکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بےروزگار پھر رہے ہیں۔ مشران نے کہا کہ ہمارے گھر بار کھنڈرات بن چکے ہیں، وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن قبائلی اضلاع کیلئے اعلان کردہ سو ارب گرانٹ سے کٹوتی کا سلسلہ پھر بھی جاری ہے جو عنقریب صفر ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پولیس کی کوئی ضرورت نہیں ہماری خاصہ دار اور لیویز فورس پولیس سے کئی گنا زیادہ بہتر ہے۔ قبائلی عمائدین نے کہا کہ ہم سے صلاح مشورہ نہیں کیا گیا اور اعتماد میں لیے بغیر ہمارے اوپر بڑے بڑے فیصلے مسلط کیے گئے جو کہ سراسر نا انصافی ہے۔ عمائدین نے کہا کہ ہمارے ساتھ جرگہ کیا جائے، ایک طرف انصاف کی بات ہو رہی ہے اور دوسری طرف ہمارا حق چھینا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم تب تک کوئی نظام نہیں چاہتے جب تک اس ویرانے کو آباد نہ کیا جائے۔ وزیراعلی خیبر پختونخواہ نے قبائلی عمائدین کو یقین دلایا کہ جلد قبائلی مشران کے ساتھ ایک  بڑی سطح کا جرگہ منعقد کیا جائے گا۔ محمود خان نے کہا کہ اپ عوام کا غصہ جائز ہے، میں برداشت کرونگا، نہ کوئی نیا ٹیکس لگے گا نہ 100 ارب کہیں جائیں گے اور جرگہ سسٹم بھی برقرار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 247 ختم ہونے کے بعد آئین پاکستان سے فاٹا کا لفظ مٹ چکا ہے ایف سی آر اور ایف آئی جی آر ختم ہو چکے ہیں جو قانون پشاور میں ہے وہی ضلع خیبر میں بھی ہے۔
خبر کا کوڈ : 770222
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے