0
Monday 4 Feb 2019 18:30

آئی ایم ایف سے قرض لینا ایک خالصتاً معاشی معاملہ ہے لیکن اسے سیاسی مسئلہ بنا دیا گیا ہے، شبر زیدی

آئی ایم ایف سے قرض لینا ایک خالصتاً معاشی معاملہ ہے لیکن اسے سیاسی مسئلہ بنا دیا گیا ہے، شبر زیدی
اسلام ٹائمز۔ نامور ماہر معاشیات شبر زیدی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض لینا ایک خالصتاً معاشی معاملہ ہے لیکن اسے سیاسی مسئلہ بنادیا گیا ہے، اسٹیٹ بینک کی رپورٹس پاکستان کے لئے نہیں بلکہ دیگر ممالک کے مخصوص حلقوں کے لئے ہوتی ہیں، رپورٹس معیشت سے زیادہ سیاست کی عکاسی کرتی ہیں۔ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شبر زیدی نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں اسٹیٹ بینک بورڈ مکمل طور پر خودمختار نہیں ہوتا، یہاں وزارت خزانہ کی طرف سے نامزدگیاں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت آڑھتی یعنی تاجر چلا رہے تھے، اسٹاک مارکیٹ، جائیداد اور دیگر شعبوں میں تجارت ہو رہی تھی، یہ سلسلہ مزید نہیں چل سکتا تھا، ایسی معیشت چل ہی نہیں سکتی جس میں ٹیکس کا زیادہ انحصار درآمدات پر ہو اور جہاں درآمدات 60 ارب ڈالر اور برآمدات 20 ارب ڈالر ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں شبر زیدی نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے نتائج تین سالوں تک سامنے آئیں گے، اس دوران نام نہاد معاشی ماہرین روز ٹی وی پر آکر اضطراب پھیلائیں گے اور یہ حکومت کے لئے بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرض لینا ایک خالصتا معاشی معاملہ ہے لیکن اسے سیاسی مسئلہ بنا دیا گیا ہے، آئی ایم ایف ہماری معیشت کو درست نہیں کر سکتی کیونکہ وہ ہماری 300 ارب ڈالر کی معیشت کی بنیاد پر بات کریں گے جبکہ ہماری حقیقی معیشت 450 ارب ڈالر ہے۔

شبر زیدی نے کہا کہ اگر پاکستان کو اپنی برآمدات 50 ارب ڈالر کرنی ہے تو اس کے لئے مغربی ممالک کی منڈیوں میں جانے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں، اس لئے آئی ایم ایف کے پاس جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم درآمدات کے خدمات کے سیکٹر کو محدود کرکے 10 ارب ڈالر سالانہ بچا سکتے ہیں۔ ٹیکس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ٹیکس کے نظام کو پولیس کے ادارے کی طرح چلاتے رہے ہیں، معیشت کو دستاویزی شکل دینا ضروری ہے، آمدنی اور اثاثوں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہے، اگلے دو تین سال ٹیکس کی آمدنی نہیں بڑھ سکے گی۔ پڑوسی ملک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اس وقت ساڑھے چھ کروڑ ٹیکس دہندگان موجود ہیں جبکہ پاکستان میں 15 لاکھ ہیں، ہندوستان پچھلے پانچ سال میں ساڑھے چار کروڑ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا ہے۔
خبر کا کوڈ : 776100
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب