0
Monday 11 Mar 2019 20:16

دادو، اصغریہ علم و عمل تحریک کے زیر اہتمام دین شناسی سیمینارز کا انعقاد

دادو، اصغریہ علم و عمل تحریک کے زیر اہتمام دین شناسی سیمینارز کا انعقاد
اسلام ٹائمز۔ اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان دادو ڈویژن کے زیر اہتمام دین شناسی تحریک کے حوالے سے دین شناسی سیمنارز کا انعقاد
کیا گیا، جس کے تحت لاڑکانہ سٹی، کے این شاہ، سیتا سٹی اور میہڑ سٹی میں پروگرامز ترتیب دئیے گئے، ان سیمنارز سے اصغریہ تحریک کے چئیرمین انجنيئر سید حسین موسوی، مرکزی صدر محمد عالم ساجدی، اہل سنت کے عالم دین مولانا محمد یاسین اشرفی، مرکزی نائب صدر شہزاد رضا، ڈویژنل دادو سید عاشق حسين نقوی، میثم عباس اصغری، مسئول لاڑکانہ باقر رضا اکبری، امجد علی جعفری، عامر علی، ریاض حسن عباس نے خطاب کئے۔ سیمیناز سے خطاب کرتے ہوئے محمد عالم ساجدی نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران نے استعمار کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے، یہ انقلاب اسلامی کے ثمرات ہیں کہ آج عالم اسلام میں مثالی اتحاد اور ہم آہنگی کی فضاء تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام خمینیؒ نے سوشل ازم اور کیپٹل ازم نظام کے مدمقابل اسلامی نظام کو پیش کیا۔

محمد عالم ساجدی نے کہا کہ آج دنیا مغربی جمہوریت کے نام نہاد نظام سے بیزار ہو چکی ہے، وہ سمجھ چکے ہیں کہ فقط اسلامی نظام حکومت ہی انسان کی تمام دنیوی، اخروی، معاشرتی، روحانی اور خاندانی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے معروف اہلسنت عالم دین یاسین اشرفی نے کہا کہ جو بھی اہلبیتؑ رسولؐ سے محبت نہیں رکھتا، وہ سچا مسلمان نہیں ہو سکتا، کیونکہ رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، ایک قرآن اور دوسرا میری اہلبیتؑ، جو بھی ان دونوں سے متصل اور متمسک رہا، وہ نجات اور فلاح پائیگا اور جس نے ان کو چھوڑ دیا، وہ گمراہ اور برباد ہوگا۔

سید حسین موسوی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں کچھ شرپسند عناصر بیرونی دشمنوں کی سازشوں کے تحت معمولی فقہی اور اعتقادی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، ان کا ایجنڈا اسلامی
اتحاد کو سبوتاژ کرنا ہے، مگر انکی یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں، کیونکہ آج تمام مسلمان سمجھتے ہیں کہ باہم احترام، بھائی چارے اور محبت سے ہی ایک ملت ترقی کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ اور سنی میں مشترکہ نکات بہت زیادہ ہیں اور اختلافی پہلو بہت کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دین شناسی کا مطلب یہ ہے کہ ہم رسول اکرمؐ کی طرف سے مقرر کردہ چینل یعنی رسول اکرمؐ، قرآن مجید اور اہلبیتؑ رسولؐ سے حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ دین شناسی کا مطلب دینی اصول کو اچھی طرح عقل و منطق کے مطابق سمجھیں، ان پر عمل کریں اور دینی اخلاق ہماری معاشرتی اور عملی زندگی میں داخل ہوں اور پابندی سے ان چیزوں کو اپنایا جائے۔
خبر کا کوڈ : 782692
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے