0
Friday 29 Mar 2019 14:31

ایران اور جنرل قاسم سلیمانی نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا ہے، امریکہ کیلئے لبنان کے مفادات اہم نہیں، سید حسن نصراللہ

ایران اور جنرل قاسم سلیمانی نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا ہے، امریکہ کیلئے لبنان کے مفادات اہم نہیں، سید حسن نصراللہ
اسلام ٹائمز - حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے منگل کے روز خطے کے سیاسی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکہ کیلئے لبنان کے مفادات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کیلئے صرف اسرائیل اہم ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران ماہ رجب، عیسائیوں کی عیدوں اور عید نوروز پر مبارکباد پیش کی۔ سید حسن نصراللہ نے گزشتہ کئی دنوں پر محیط اہلیان غزہ اور اسی طرح مغربی کنارے کے باسیوں اور اسرائیلی جیلوں میں قید بیگناہ فلسطینیوں کے انتھک مقاومتی عمل کو سراہتے ہوئے ان کے اقدامات کو دلیرانہ قرار دیا۔ انہوں نے یمن کی جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہو جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سعودی - اماراتی اتحاد کی اندھی جارحیت کے مقابلے میں یمنیوں کی پرزور مزاحمت کو بھی سراہا۔
 
سید مقاومت سید حسن نصراللہ نے کہا کہ آج میری گفتگو (امریکی وزیر خارجہ) پمپیو کے لبنان کے دورے اور  پریس کانفرنسز میں دیے گئے بیانات کے متعلق ہے، لیکن میں پہلے ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کروں گا جو امریکہ کی طرف سے شام کے علاقے گولان ہائیٹس پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کر لینا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو عرب اسرائیل تنازع میں انتہائی اہم اور نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے اسے مسلمانوں کے حقوق، ان کے مقدس مقامات اور مستقبل کے لئے ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر تاکید کی کہ اس اقدام کے سدباب کے لئے صرف مذمتی بیانات دے دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے گولان ہائیٹس پر غاصب اسرائیلی حکومت کے ناجائز قبضے کو جلدبازی میں تسلیم کر لینے کے امریکی اقدام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو یہ کام اسلامی اور عرب دنیا کی توہین کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ تمام ممالک جو ریاض میں ٹرمپ کے ساتھ بیٹھتے رہے ہیں اور ان کے کروڑوں مسلمان و عرب باشندے سب ہی گولان ہائیٹس کے عرب ملک شام کا حصہ ہونے پر متفق ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے اس کام سے  نہ صرف ان سب کی توہین کی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ کے لئے ان ممالک کی ناراضگی کی کوئی اہمیت نہیں۔  سید حسن نصراللہ نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کے تمام ممالک چاہے امریکہ کے دوست ہوں یا دشمن، سب اس بات پر متفق ہیں کہ گولان کی پہاڑیاں شام کی سرزمین کا حصہ ہیں لیکن ٹرمپ نے غاصب صیہونی حکومت کی خوشنودی کی خاطر اس عالمی حقیقت سے بھی منہ موڑ لیا ہے۔ امید ہے کہ اسلامی اور بالخصوص عرب دنیا امریکہ کے نزدیک اپنا حقیقی مقام جان چکی ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور بالخصوص ٹرمپ بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل نام کی کسی چیز کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ہی وہ واحد ملک ہے جس نے غاصب اسرائیلی حکومت کی خاطر آج تک ان تمام قوانین کو اپنے پیروں تلے روندا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ امریکہ کی استکباری حکومت اقوام متحدہ، اس کی قراردادوں اور سلامتی کونسل کو تسلیم نہیں کرتی جبکہ ان اداروں کو صرف اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران اگر یہ ادارے امریکی مذموم مقاصد پورے کرنے میں ناکام رہ جائیں تو امریکی حکومت اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے ان اداروں کی مخالفت کی پرواہ بھی نہیں کرتی۔
 
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ امریکہ کا یہ فیصلہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کی آج تک آنے والی حکومتوں اور بالخصوص اس حکومت کی پہلی ترجیح اسرائیل ہے اور یہ کہ امریکی حکومت کی نظر میں پورے خطے کے مفادات جب تک اسرائیلی مفادات کے ساتھ ہیں اہم ہیں ورنہ ان کی بھی کوئی اہمیت نہیں۔ لہذا جیسا کہ قدس کے مسئلے میں واضح ہے امریکہ امن منصوبے کی سربراہی کرنے کے قابل نہیں کیونکہ امریکہ ایک طرف تو دوسرے ممالک کی سرزمینوں اور ان کے مقدس مقامات پر قبضے جما رہا ہے جبکہ دوسری طرف امن و سلامتی کا دعویدار بھی ہے۔ اب تھوڑے ہی عرصے کے بعد تیونس میں عرب لیگ کا اجلاس بھی بلایا جائے گا، میں نہیں چاہتا کہ جنگ شروع ہو لیکن بالآخر ایک چیز "عرب امن اقدام" (Arab Peace Initiative) کے نام سے موجود ہے جس کو اسرائیل نے قانونی طور پر تسلیم بھی نہیں کیا۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اگر عرب ممالک میں ذرہ برابر بھی عزت نفس اور شعور ہو تو انہیں چاہئے کہ تیونس کے جلسے میں 2002ء کی لبنان میں ہونے والی "عرب امن اقدام" کانفرنس سے اپنی علیحدگی کا اعلان کر کے اپنی ملکی سرحدوں کو زیروپوائنٹ پر واپس لے آئیں۔ انہوں نے شام سے بھی مطالبہ کیا کہ گولان ہائیٹس کو اپنی زمینی حدود میں واپس لے آئے اور کہا کہ لبنانیوں کو بھی اپنے "شعبا فارمز"، "کفرشوما" اور "الغجر" نامی علاقوں کو اپنے کنٹرول میں واپس لے آنا چاہئے اور وہاں کے تیل گیس اور سمندری ذخائر سے فائدہ حاصل کرنے کے اپنے حق کو استعمال کرے۔ سید حسن نصراللہ نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو کے لبنان کے دورے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے وزیر خارجہ نے ایک پریس کانفرنس میں ایک تحریر پڑھ کر سنائی جس میں چند منٹوں کے دوران حزب کا نام 18 اور ایران کا نام 19 مرتبہ دہرایا گیا جس کے بعد کسی صحافی کے سوال کا جواب بھی نہیں دیا گیا۔

اس وزیر خارجہ نے ایک لکھا ہوا بیان پڑھا اور جلدبازی میں عقل و منطق کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے سامنے سے بھی فرار کر گیا۔ انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لئے سعادت اور خوشبختی کا باعث ہے کہ پمپیو ہم سے بغض و کینہ رکھتا ہے۔ یہ ہمارے لئے کسی قسم کی پریشانی کا باعث نہیں ہے۔ کل بھی جب ٹرمپ نے گولان کی پہاڑیوں سے متعلق دستاویز پر دستخط کرتے ہوئے حزب اللہ کا نام لیا تھا تو ہم اس بات پر خوش تھے کہ ہم ٹرمپ کی حکومت کے لئے غم و غصے کا باعث ہیں۔ ہماری ثقافت میں امریکا "شیطان بزرگ" ہے جبکہ بڑے شیطان کی ناراضگی کا مطلب یہ ہے کہ خدا ہم سے راضی ہے۔ لہذا اگر کبھی یہ بڑا شیطان ہم سے راضی ہو گیا تو ہم سمجھ لیں گے کہ ہمارے موقف میں کہیں غلطی ہو رہی ہے۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ پمپیو حزب اللہ کو تو لبنان کی 34 سالہ مشکل قرار دیتے ہیں لیکن اسرائیلی جارحیت، اس کے ظلم و ستم اور بےگناہ افراد کی اندھا دھند گرفتاریوں کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بولتے۔ یہ اسرائیل ہی ہے جو لبنان کے اپنے سمندری ذخائر سے استفادہ کرنے کے حق میں رکاوٹ بن رہا ہے لہذا پمپیو کی بات جھوٹ کے پلندے سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ سید مقاومت نے امریکی وزیر خارجہ کو علاقائی مسائل سے نابلد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وزیر خارجہ کو خیانتکاروں نے یا ان کی اپنی ایجنسیوں نے غلط اطلاعات دی ہیں جبکہ پمپیو کی حزب اللہ کے بارے میں گفتگو لبنان کے لوگوں کے لئے تعجب کا باعث بنی ہے۔ پمپیو کہتے ہیں کہ حزب اللہ تشدد پھیلانے کے حوالے سے لبنان کی عوام اور حکومت کے لئے ایک خطرہ ہے جبکہ سب جانتے ہیں کہ یہ امریکا ہے جو پورے خطے کو بربادی کی طرف دھکیل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پمپیو کہتے ہیں کہ "اسرائیل پر چلانے کی خاطر راکٹوں کو سٹور کرنا لبنان کو کیسے مضبوط بنا سکتا ہے"، کیا اس سوال سے بڑھ کر بھی کوئی حماقت ہو سکتی ہے؟ کون نہیں جانتا کہ اسرائیل پہلے دن سے لبنان پر جارحیت کا مرتکب ہوا ہے اور بارہا لبنان کی سرزمین کے اندر آپریشنز انجام دے چکا ہے؟ لبنان کے لوگ جان چکے ہیں کہ مقاومت ہی وہ سنہرا انتخاب ہے جو اسرائیلی جارحیت کے سامنے ڈھال بن سکتا ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے مائیک پمپیو کے اس دعوے کے جواب میں کہ حزب اللہ امن اور ترقی کو ایرانی مفادات کے خلاف سمجھتی ہے، کہا کہ ایران کب لبنان کی پیشرفت میں رکاوٹ بنا ہے؟ ہم نے آج تک کسی بھی دوسرے فریق سے بڑھ کر لبنان کے اندرونی استحکام اور امن و امان پر زور دیا ہے۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ کے حزب اللہ پر لگائے گئے منشیات کی سمگلنگ کے الزامات کو بےبنیاد قرار دیتے ہوئے کرپشن کے بارے میں کہا کہ آج تک کسی شخص یا ادارے نے حزب اللہ پر کرپشن کا الزام نہیں لگایا۔

سید حسن نصراللہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پمپیو کے اس دورے کا اصلی مقصد لبنانیوں کو خود انہی کے خلاف ابھارنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی لبنان میں امن و امان اور استحکام کی اچھی صورتحال پر غم و غصے کی حالت میں ہیں جبکہ لبنانی پرامن زندگی کے خواہاں ہیں اور خانہ جنگی نہیں چاہتے۔ انہوں نے پمپیو کے اس دورے کو سعد الحریری کے سعودی عرب میں گرفتار کر لئے جانے کی طرح لبنان میں خانہ جنگی کی سازش قرار دیا۔  انہوں نے "الرکبان" کیمپ کے رہائشیوں کے وہاں سے نکلنے پر امریکی ممانعت اور پھر ان کے اپنے اپنے علاقوں کی طرف واپسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پمپیو کا یہ بیان کہ امریکہ شامی پناہ گزینوں کی فوری اور پرامن واپسی کی حمایت کرتا ہے، سراسر فریبکاری پر مبنی ہے۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پمپیو کہتے ہیں کہ "حزب اللہ اور ایران نے لبنان کے لئے کیا ہی کیا ہے؟" اگر حزب اللہ نہ ہوتی تو آپ (پمپیو) آج لبنان آتے اور نہ ہی اس ملک کو پہچان پاتے! پمپیو کہتے ہیں کہ "جنرل قاسم سلیمانی اور ایرانیوں نے لبنان کی عوام کے امن و امان کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے"۔ جنرل قاسم سلیمانی اور ایران نے تو ہماری مدد کی ہے تاکہ ہم اپنے عوام کی حفاظت کر سکیں۔ ایران اور جنرل سلیمانی نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا ہے۔ ہم نے ایرانی اسلحے کے ذریعے ہی اپنی سرزمین کو غاصب صیہونیوں کے قبضے سے آزاد کروایا ہے اور اسی اسلحے کے ساتھ ہم نے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا ہے۔ کیا امریکہ نے لبنان میں آج تک کوئی مفید کردار ادا کیا ہے؟  سید حسن نصراللہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پمپیو کی گفتگو میں کوئی ایک جملہ بھی سچا نہ تھا کیونکہ وہ فقط ایک ہی مقصد، لبنانیوں کو ایک دوسرے کے خلاف ابھارنے کے لئے بول رہے تھے۔ انہوں نے "میشل عون" اور "نبیہ بری" کو امریکی وزیر خارجہ کے مقابلے میں اپنا موقف واضح انداز میں بیان کرنے پر سراہا۔
 
سید مقاومت سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ہم ان تمام سیاسی گروپس اور سیاسی شخصیات کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے پمارا دفاع کیا اور امریکی وزیر خارجہ کی شرانگیزیوں میں گرفتار نہ ہوئے حتی ان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جن سے ہمیں اپنے دفاع کی کوئی توقع بھی نہ تھی۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ماضی کے تجربوں سے سبق سیکھیں۔ امریکہ کے لئے لبنان کے مفادات اہم نہیں جبکہ صرف اسرائیلی مفادات ہی امریکہ کے لئے اہم ہیں۔ اسرائیل نہ صرف امریکہ کا حلیف نہیں اور اس کی ملکی سرزمین کا ایک حصہ ہے بلکہ اس خطے میں امریکہ کی چھاونی بھی ہے۔
 
 
خبر کا کوڈ : 785812
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب