0
Wednesday 24 Apr 2019 15:17

ایران کے خلاف امریکی اقدام پوری دنیا پر جارحیت کے مترادف ہے، سید حسن نصراللہ

ایران کے خلاف امریکی اقدام پوری دنیا پر جارحیت کے مترادف ہے، سید حسن نصراللہ
اسلام ٹائمز - حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے "بئر حسن" کے مقام پر "رسالات" کلچرل سنٹر میں منعقد ہونے والے "امام مہدی (عج) سکاؤٹس" کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سری لنکا میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کی پرزور مذمت کی اور ان حملوں کو وحشیانہ دہشتگردی کا واقعہ قرار دیتے ہوئے دہشتگردی کی بنیادوں اور دہشتگردوں کے حامیوں کا بھرپور مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مسلمانوں اور عیسائیوں کی عیدوں پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی ان مذاہب کے پیروکاروں کے چہروں پر مسکراہٹ کِھلنے میں رکاوٹ بن گئی ہے جبکہ یمن، فلسطین اور سری لنکا میں جرائم کا ارتکاب کرنے والے دہشتگردوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ آج ہمارے سامنے جتنے بھی مسائل ہیں ان کا تعلق امید اور خدا پر بھروسے کے ساتھ ہے۔ اگر فلسطینی عوام ناامید ہو جائیں تو ممکن ہے کہ "صدی کی ڈیل" ان پر مسلط کر دی جائے لیکن جب تک وہ پرامید رہیں گے کوئی ان پر اپنی مرضی تھونپ نہیں سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1982ء میں لبنان میں کوئی بھی اسرائیلی دشمن کے ساتھ مقابلے کی امید نہیں رکھتا تھا جبکہ ان لوگوں کی قوت کا محور جنہوں نے مزاحمت کا رستہ اختیار کیا امید ہی تھی اور آج بھی اگر لبنانی عوام ناامید ہو جائیں تو ممکن ہے کہ ٹرمپ لبنان کو بھی اسرائیل کے سپرد کر دے۔

سید مقاومت نے کویتی اخبار "الرأی" میں اپنے حوالے سے چھپنے والے بیانات کہ جن کے ذریعے آئندہ گرمیوں کے موسم میں اسرائیل کے ساتھ جنگ چھڑنے کی خبر دی گئی تھی، کو سختی کے ساتھ رد کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ اس اخبار میں چھپا ہے مکمل غلط ہے اور انتہائی غلط موقع پر سامنے آیا ہے۔ میں نے کسی مقام پر نہیں کہا کہ اسرائیل گرمیوں میں لبنان پر جنگ مسلط کر دے گا اور میں دنیا میں نہ رہوں گا کیونکہ زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہمارے پہلی اور دوسری صف کے کمانڈرز شہید ہو جائیں گے یا جو کچھ بھی اس اخبار میں چھپا ہے کیونکہ یہ سب خام خیالی ہے جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری ذاتی نظر یہ ہے کہ اسرائیل کی لبنان کے خلاف جنگ بعید ہے کیونکہ اسرائیلی اندرونی طور اس کام کے لئے تیار نہیں جبکہ وہ جو کچھ ہمارے میزائلوں کا  مقابلہ کرنے کے بارے کہتے ہیں صحیح نہیں ہے کیونکہ ان کے تمامتر اقدامات کے باوجود وہ ہمارے میزائلوں کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر جنگ کی کامیابی کے لئے زمینی فوج کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ زمانہ گیا کہ جب فقط ہوائی قوت ہی جنگوں کا پانسہ پلٹ سکتی تھی جبکہ اسرائیلی زمینی فوج ایسی کسی جنگ کے لئے تیار نہیں۔ میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ اسرائیل جیسے لالچی اور دھوکہ باز دشمن کے سامنے ہم کسی سیاسی تحلیل میں نہیں پھنسیں گے جبکہ ہم ہر آن اس کے ساتھ مقابلے کے لئے تیار ہیں۔ اس افواہ کے پھیلانے کے لئے انتہائی بُرا وقت انتخاب کیا گیا ہے اور وہ گرمیوں کا موسم ہے جب لبنان میں سیاح آتے ہیں کیونکہ اس افواہ کے ذریعے ہمارے ملک کی ٹورازم کی صنعت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب کے دوران ایرانی تیل کی خریداری کے لئے بعض ممالک کے استثناء کے حق کو امریکہ کی طرف سے ختم کر دیئے جانے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران، ونزویلا اور شام سے انتقام لیں اور وہ ہدف جو فوجی اعتبار سے حاصل نہیں کر پائے اب اپنی اقتصادی پابندیوں کے ذریعے حاصل کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم خطے کی بڑی حکومتوں کے خلاف امریکی استکبار، لاقانونیت اور کھلی دشمنی کے نئے نمونے مشاہدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم امریکہ کی طرف سے نہ صرف ایران کے خلاف ظلم و ستم کا مشاہدہ کر رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں اور امریکہ کے اپنے اتحادیوں سمیت پوری دنیا کے مفادات کے خلاف امریکی جارحیت ملاحظہ کر رہے ہیں۔ پوری دنیا کے ممالک اور ان کی عوام کو امریکہ کے اس رویے کا مقابلہ اور اس کی ظالمانہ اور متکبرانہ پابندیوں کو رد کر دینا چاہئے۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ کیا امریکہ کے اس اقدام کی حمایت میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا موقف شرمندگی کا باعث نہیں؟ ان اقدامات کا مقصد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ہمسایوں کا بائیکاٹ ہے۔ حقیقت پسند لوگوں کو چاہئے کہ وہ ان دونوں ممالک کی سیاست کو عرب و مسلم دنیا کے لئے بیان کریں۔ ان ممالک نے یمن پر غیرانسانی جنگ مسلط کر رکھی ہے جبکہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا ان کا مشغلہ بن چکا ہے۔ لیبیا میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، اسی طرح الجزائر، سوڈان اور بحرین میں بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہی مداخلت کر رہے ہیں۔ ان ممالک کی حکومتیں اسلامی دنیا کو کس ڈگر پر ڈالنا چاہتی ہیں؟ ان سب حالات کو "صدی کی ڈیل" کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔

سید مقاومت سید حسن نصراللہ نے داعش کو سعودی عرب کا منصوبہ اور وہابی سوچ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے تاکید کی کہ دہشتگرد گروہوں نے اپنی سوچ سعودی عرب کے دینی اداروں سے حاصل کی ہے اور وہ اسی سوچ کے ذریعے اقوام عالم کا قتل عام کرتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز داعش کی طرف سے سعودی عرب پر کئے گئے حملے کو ایک ایسے چاقو سے تشبیہ دی جو اپنے پکڑنے والے شخص کے ہاتھ کو ہی زخمی کر دیتا ہو۔
 
خبر کا کوڈ : 790433
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب