0
Tuesday 30 Jul 2019 22:11

کوئٹہ، سٹی تھانے کے باہر دھماکا، 5 افراد جاں بحق، 32 زخمی

کوئٹہ، سٹی تھانے کے باہر دھماکا، 5 افراد جاں بحق، 32 زخمی
اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بم کے ایک دھماکے میں کم سے کم 5 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے۔ سٹی پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار کے مطابق بم دھماکہ لیاقت بازار میں سٹی تھانہ کے سامنے ہوا۔ اہلکار نے بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب پولیس کی ایک گاڑی کاسی روڈ سے لیاقت روڈ کی جانب مڑی۔ بظاہر دھماکے کا ہدف پولیس کی گاڑی تھی۔ ایک عینی شاہد کیمطابق دھماکے کی آواز سنتے ہی وہ جائے وقوعہ پر گئے، جہاں انہوں نے بڑی تعداد میں زخمی دیکھے۔ انکا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی ایمبولینس میں دو بچوں، دو خواتین اور تین مردوں کو سول ہسپتال پہنچایا۔ دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد کے لئے سول ہسپتال کوئٹہ پہنچایا گیا۔ سول ہسپتال کوئٹہ کے ترجمان وسیم بیگ نے بتایا کہ سٹی پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے دھماکے میں کم سے کم 5 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ہسپتال کے ترجمان وسیم بیگ نے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا تھا کہ یہ بتانا قبل از وقت ہوگا کہ دھماکہ خودکش تھا یا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے میر ضیاءاللہ لانگو نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی قربانی سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کررہی ہے، جن میں سرحدی علاقوں میں باڑ لگانا بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باڑ لگانے سے بدامنی کے واقعات میں کمی آئی ہے، اس سے قبل 23 جولائی کو مشرقی بائی پاس پر شیر جان سٹاپ پر ایک دھماکے میں 4 افراد ہلاک اور دس سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ بلوچستان میں 2000ء کے بعد سے بم دھماکوں اور اس نوعیت کے بدامنی کے دیگر واقعات کا سلسلہ کمی و بیشی کے ساتھ جاری ہے، تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب کوئٹہ شہر میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 808009
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے