0
Wednesday 31 Jul 2019 11:29

افغانستان، 6 ماہ میں تقریباً 4 ہزار شہری ہلاک ہوئے، اقوام متحدہ

افغانستان، 6 ماہ میں تقریباً 4 ہزار شہری ہلاک ہوئے، اقوام متحدہ
اسلام ٹائمز۔ سال 2019ء کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ کے دوران افغانستان میں اب تک 3ہزار812 شہری ہلاک ہو چکے ہیں جس میں حکومتی اور غیر ملکی افواج کے باعث ہونے والی ہلاکتوں میں بھی خاصہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ نے ہلاکتوں کے تازہ ترین اعداد و شمار طالبان اور امریکا کے مابین 18سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے پیشِ نظر کیے جانے والے مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہونے پر جاری کیے تاہم تمام تر سفارتی کوششوں کے باجود افغان شہری مسلسل عسکریت پسندوں کا نشانہ بننے، جنگ کی زد میں آنے یا افغان اور غیر ملکی فوج کے فضائی حملوں کا شکار بننے کے خوف کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

افغانستان میں موجود اقوامِ متحدہ کے اسسٹنٹ مشن (یو این اے ایم اے) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا کہ زیادہ تر شہریوں کی ہلاکتیں زمینی جھڑپوں میں ہوئیں جس کے بعد بم دھماکے اور فضائی حملے بڑی وجوہات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان اور داعش جنگجوؤں نے یکم جنوری سے 30 جون تک 531 افغان شہری ہلاک جبکہ ایک ہزار 437 زخمی کیے۔ دہشت گرد گروہوں نے جان بوجھ کر 985 شہریوں کو نشانہ بنایا جس میں حکومتی عہدیدار، قبائلی عمائدین، امدادی رضاکار اور مذہبی عالم شامل ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حکومت کی حمایت یافتہ افواج نے 6 ماہ کے عرصے کے دوران 717 افغان شہری قتل اور 680 شہری زخمی کیے، یہ تعداد 2018ء کے اسی عرصے کے دوران ہونے والی ہلاکتوں سے 31 فیصد زائد ہے۔

مختلف حملوں میں افغانستان بھر میں 6 ماہ کے دوران 144 خواتین اور 327 بچے مارے گئے جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے جس میں سے فضائی حملوں میں 519 شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں جس میں 150 بچے شامل تھے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چیف رچرڈ بینیٹ کا کہنا تھا کہ انسانی نقصان سے بچنے کے لیے نہ صرف عالمی انسانی قوانین پر عملدرآمد کرنا بلکہ لڑائی کی شدت میں کمی بھی ضروری ہے جس سے افغان شہریوں کی مشکلات میں کمی ہو سکے گی۔
خبر کا کوڈ : 808076
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے