0
Sunday 11 Aug 2019 02:39
یمن میں موجود ریاض اور ابوظہبی کے حمایت یافتہ مسلح گروہ آپس میں لڑ پڑے

یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی ایکدوسرے کیخلاف پراکسی وار سے امریکہ پریشان

یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی ایکدوسرے کیخلاف پراکسی وار سے امریکہ پریشان
اسلام ٹائمز۔ ممکن ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کسی ایک مقصد کے حصول کی خاطر یمن کی سرزمین میں جا گھسے ہوں، لیکن فی الحال وہاں کی اسلامی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ لڑنے والے مسلح گروہوں کی آپس کی لڑائی ان دونوں ممالک کے مفادات کے درمیان موجود واضح تضادات کو عیاں کرتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار "نیوز ویک" نے یمنی علاقے عدن میں موجود سعودی عرب کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی وہیں موجود متحدہ عرب امارات کے مسلح گروپس کے ساتھ ہونے والی شدید جنگ کی خبر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ عدن کی جنوبی بندرگاہ پر سابقہ مستعفی و فراری یمنی صدر "عبدربہ منصور الہادی" کے حمایتی مسلح گروہوں کی یمن کے جدائی طلب "جنوبی عبوری کونسل" کے مسلح جنگجوؤں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

جنگ بین عربستان و امارات در یمن

امریکی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے درمیان سنگین جھڑپوں پر اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فی الفور لڑائی بند کرکے مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل کو حل کریں جبکہ امریکی اخبار "نیوز ویک" لکھتا ہے کہ یمن میں جنگ کا آغاز 2011ء سے ہوا، جس نے شمالی افریقہ اور وسطی ایشیاء کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ 2012ء میں یمنی صدر "علی عبداللہ صالح" کو ان کے خلاف ہونے والے وسیع احتجاجی مظاہروں کے جواب میں ان کے منصب ہٹا کر "عبدربہ منصور الہادی" کو صدر بنا دیا گیا اور وہ بھی بہت سے یمنی گروہوں کی مخالفت کا نشانہ بنے، جن میں سے ایک انصاراللہ بھی تھی جبکہ ان کے خلاف ہونے والے یہ احتجاجات مسلح جھڑپوں میں بدل گئے۔ اس سیاسی کشمکش میں "القاعدہ" کی شمولیت نے اسے مزید بدتر کر دیا۔ بالآخر 2015ء کے اوائل میں انصاراللہ یمن کے دارالحکومت صنعاء کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب ہوگئی، جس کی وجہ سے عبدربہ منصور الہادی (استعفی دینے کے بعد) یمن سے فرار کر گئے۔

دوسری طرف سعودی عرب نے اسی سال مارچ میں اپنے فوجی اتحاد کے ہمراہ (یمن کا اقتصادی محاصرے کرنے کے ساتھ ساتھ) انصاراللہ کے ٹھکانوں کو اپنے ہوائی حملوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا اور یوں یمن کے سیاسی حالات ڈیڈلاک کا شکار ہوگئے جبکہ اقوام متحدہ کے انسپکٹرز کی رپورٹس کے مطابق اسی وقت سے یمن کی عوام اور خصوصاً بچے قحط کی سی صورتحال سے دوچار ہیں۔ امریکا نے بھی سعودی عرب کی لیڈرشپ میں بننے والے اس فوجی اتحاد کی حمایت کا اعلان کیا جبکہ اس اتحاد کیطرف سے بارہا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکی کانگریس نے امریکہ کی طرف سے ریاض کو ملنے والی مالی امداد کے فوراً بند کئے جانے کا مطالبہ کیا جو ہر مرتبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ویٹو کا شکار ہوگیا۔ دوسری طرف یمن میں جاری جنگ ایران اور سعودی عرب کے درمیان بھی تناؤ میں اضافے کا سبب بنی ہے۔

جنگ بین عربستان و امارات در یمن
نیوز ویک نے مزید لکھا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو ایران کے خلاف سعودی عرب کا حلیف سمجھا جاتا تھا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ خلیج فارس میں تناؤ کے بڑھنے کی وجہ سے اب متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب سے اپنی راہیں جدا کر لی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید آل نہیان نے دو ماہ قبل جون کے مہینے میں خلیج عمان میں دو آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں میں ایران کو قصور وار قرار دینے سے پرہیز کی تھی، جبکہ سعودی و امریکی وزیر خارجہ نے یک زبان ہو کر ایران کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ اسی طرح گذشتہ مہینے بھی متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے اس بات کی تائید کی تھی کہ ان کا ملک یمن اور خاص طور پر متنازعہ یمنی بندرگاہ "الحدیدہ" سے اپنی افواج کو خارج کرنے والا ہے جبکہ دوسری طرف متحدہ عرب امارات کے کوسٹ گارڈز کے کمانڈر نے بھی مشترکہ سکیورٹی کے امور کے حوالے سے ایرانی بارڈر سکیورٹی فورسز کے ساتھ بہت سی مفاہمتوں پر دستخط کئے تھے۔

امریکی اخبار اپنے کالم کے آخر میں لکھتا ہے کہ دوسری طرف انصاراللہ ساڑھے چار سال سے زیادہ عرصے سے یمنی جنگ میں قائم ہونے والے سعودی-اماراتی اتحاد کے درمیان پڑنے والی اس دراڑ سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے منتظر کھڑی ہے، جیسا کہ گذشتہ ہفتے انصاراللہ کے ایک رہنماء "محمد علی الحوثی" نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ (یمن پر مسلط غیر ملکی) گماشتے برف کی طرف پانی ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ کیا جارح قوتوں کو نکال باہر کرنے اور ان سے ہر قسم کے تعلقات کو ختم کر لینے کے علاوہ کسی اور طریقے سے نجات میسر ہوسکتی ہے؟ جبکہ اس بیان کے منتشر ہونے کے اگلے ہی دن انصاراللہ کے حملوں میں سعودی عرب کے بنیادی مفادات کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں تیزی آگئی تھی اور انصاراللہ نے اپنے ڈرون طیاروں کے ذریعے سعودی عرب کی ایک بین الاقوامی ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کے بعد اپنے اس حملے کو "عظیم یمنی عوام کے خلاف سعودی عرب کے جرائم اور ان کے گرد سعودی عرب کے اقتصادی محاصرے" کا جواب قرار دیا تھا۔

جنگ بین عربستان و امارات در یمن
خبر کا کوڈ : 810013
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے