1
Thursday 15 Aug 2019 19:14

بھارت، تاحال علاج شروع نہیں ہوا، یہاں نائیجیریا سے زیادہ تنگ ہوں، شیخ زکزاکی

بھارت، تاحال علاج شروع نہیں ہوا، یہاں نائیجیریا سے زیادہ تنگ ہوں، شیخ زکزاکی
اسلام ٹائمز۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے سربراہ حجت الاسلام شیخ ابراہیم زکزاکی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے "مجمع جہانی تقریب مذاہب" کے سربراہ آیت اللہ محسن اراکی کی طرف سے کی جانے والی ٹیلیفون کال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہاں بھارت میں ان کے علاج معالجے کے لئے تاحال کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی انہیں کسی ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔ نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے سربراہ حجت الاسلام شیخ ابراہیم زکزاکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی نے انہیں الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ 2 گھنٹوں کے دوران نائیجیریا کی طرف سے عائد کردہ شرائط کو قبول کر لیں یا بھارت سے نکل جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے ان کی جسمانی صورتحال جانچنے اور نئے سرے سے تشخیص کے بارے میں ان سے گفتگو کی ہے جبکہ ان کی جسمانی حالت مشخص ہے اور مسائل پہلے سے تشخیص شدہ ہیں اور اس وقت فوری طور پر علاج معالجہ شروع کرنے کی ضرورت ہے، نہ دوبارہ تشخیص دینے کی۔

انہوں نے اپنی گفتگو میں اس بات پر تاکید کی کہ نائیجیریا کی حکومت کے دعووں کے برخلاف تاحال انہیں کسی ہسپتال میں لیجایا تک نہیں گیا جبکہ اُن کے اپنے ڈاکٹرز انہیں فوری طور پر ہسپتال میں منتقل کرنا چاہتے تھے اور نائیجیریا کی عدالت نے بھی ان کے اس مطالبے کیساتھ اتفاق کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر ہسپتال میں داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔ واضح رہے کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کو قریب لانے کے ہدف سے اسلامی جمہوریہ ایران میں قائم "مجمع جہانی تقریب مذاہب" کے سربراہ آیت اللہ محسن اراکی نے جمعرات کے روز بھارت میں موجود نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے سربراہ حجت الاسلام شیخ ابراہیم زکزاکی کی سلامتی معلوم کرنے کی خاطر ان سے ٹیلیفون پر رابطہ قائم کیا تھا جبکہ حجت الاسلام شیخ ابراہیم زکزاکی نے بھی ان کی زحمات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

یاد رہے کہ شیخ ابراہیم زکزاکی اپنی ناگفتہ بہ جسمانی حالت کے ساتھ اپنی اہلیہ کے ہمراہ عرصہ دراز سے نائیجیریا کی جیل میں قید تھے جبکہ گذشتہ ہفتے نائیجیریا کی ایک عدالت نے ان کی جسمانی حالت کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر بیرون ملک کے پیشرفتہ طبی مرکز میں ان کا علاج معالجہ کروانے کا حکم دیا تھا، جس کی تعمیل میں نائیجیریا کی حکومت نے انہیں بھارت روانہ کر دیا، جبکہ بھارت پہنچنے پر نہ صرف ان کی پہلے سے مشخص کردہ ڈاکٹرز کی ٹیم کو بدل دیا گیا بلکہ انہیں موجودہ صورتحال قبول کرنے کے لئے 2 گھنٹوں کا الٹی میٹم بھی دیدیا گیا، جس کے دوران انہوں نے نائیجیریا واپس پلٹنے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ بھارت میں نائیجیریا سے بھی زیادہ تنگ ہیں، لہذا وہ واپس پلٹنا چاہتے ہیں، لیکن پھر ان کے پروگرام میں تبدیلی آگئی اور انہوں نے بھارت میں رہ کر نائیجیریا اور بھارتی حکومتوں کی شرائط کے مطابق علاج معالجہ کروانے پر رضامندی ظاہر کر دی، جبکہ تاحال انہیں کسی طبی مرکز میں لیجایا تک نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب اسلامی تحریک نائیجیریا کے مرکزی دفتر نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ شیخ زکزاکی کی تمامتر درخواستوں کو نائیجیریا حکومت کے دستورات کے مطابق رد کر دیا جاتا ہے جبکہ اسلامی تحریک نے بھارت میں شیخ زکزاکی کو پیش آنے والے حالات کے پیش نظر پہلے سے یہ اعلان بھی کر رکھا ہے کہ شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ کو پیش آنے والے کسی بھی ناخوشگوار حادثے کی ذمہ نائیجیریا کی حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کو سمجھا جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 810729
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب