0
Friday 16 Aug 2019 08:07

لبنان، حزب اللہ نے اپنے نئے کشتی شکن میزائل کی ویڈیو جاری کر دی

حزب اللہ نے 33 روزہ جنگ میں پراسرار طور پر غرق ہونیوالے اسرائیلی جنگی بیڑے کی ویڈیو بھی نشر کی
لبنان، حزب اللہ نے اپنے نئے کشتی شکن میزائل کی ویڈیو جاری کر دی
اسلام ٹائمز۔ ایک لبنانی نیوز ایجنسی نے اپنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے کشتی شکن میزائلز کی ویڈیو نشر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ تصاویر پہلی مرتبہ میڈیا پر نشر کی جا رہی ہیں، جو حزب اللہ کے کشتی شکن میزائل C-802 سے متعلق ہیں۔ اسی طرح حزب اللہ نے بھی سال 2006ء میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی اپنی 33 روزہ جنگ کے دوران ایک اسرائیلی بحری بیڑے کے پراسرار طور پر غرق ہو جانے سے متعلق ایک ویڈیو نشر کی ہے۔ دوسری جانب لبنانی نیوز چینل المنار نے بھی سال 2006ء میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی 33 روزہ جنگ کے دوران حزب اللہ لبنان کی نیول فورسز کی طرف سے ایک اسرائیلی جنگی بحری بیڑے کے نشانہ بننے کی ویڈیو کو نشر کیا جبکہ اس نیوز چینل کی خبرنگار "مصطفیٰ حورانی" کا کہنا تھا کہ اسرائیلی بحری بیڑے "ساعر-5" کے بیروت کے نزدیکی ساحل پر غرق ہو جانے کے 13 سالوں کے بعد حزب اللہ کی نیول فورسز نے اپنے "الطود الاول" نامی فوجی آپریشن سے متعلق چند ایک جزئیات جن میں سے اس آپریشن کا وقت، جگہ اور اس میں استعمال کیا گیا اسلحہ شامل ہے، پر روشنی ڈالی ہے۔

اس ویڈیو فوٹیج میں موجود حزب اللہ کے ایک فوجی کا کہنا تھا کہ خدا پر توکل کرتے ہوئے برادران ایمانی نے اس میزائل لانچر کو پہلے سے منتخب شدہ ایک مقام پر منتقل کر دیا جبکہ اس کے آمادہ ہو جانے کے بعد ہمارا کمانڈ سنٹر لحظہ بہ لحظہ ہماری ہر ایک کارروائی سے مرتبط رہا۔ شہید کمانڈر حاج عماد مغنیہ بھی براہ راست ہمارے ساتھ رابطے میں تھے جبکہ مغرب کے نزدیک "فائر" کا آرڈر ملا اور آرڈر ملتے ہی ہمارے بھائیوں نے اس کی تعمیل میں اسرائیلی بحری بیڑے کی طرف معین مقدار میں میزائل فائر کر دیئے گئے۔ حزب اللہ کے اس فوجی کا کہنا تھا کہ جب اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے اس پیشرفتہ اسلحے کو اپنی نیول فورسز کی مہمات میں شامل کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے لئے ایک پورا منصوبہ تیار کیا گیا، جس کے مطابق ایک بہترین ہدف کا انتخاب بھی عمل میں لایا گیا۔

اس مقصد کے لئے ضروری تھا کہ اسرائیلی نیوی کا کوئی مناسب ٹارگٹ انتخاب کیا جاتا۔ اسرائیلی بحری بیڑا "ساعر-5" اسرائیلی نیوی کا ہیرا سمجھا جاتا تھا جبکہ اسرائیلی اسے "پرچم" کہہ کر پکارتے تھے۔ ہم نے اپنی مزاحمتی تحریک میں اس مقصد کے لئے مکمل منصوبہ بندی کی، تاکہ دشمن کے حالات کو یکسر پلٹ دیں۔ ہم نے ظہر کے نزدیک دشمن کے فوجیوں اور افسروں کی تصاویر بنائیں جو ہنس کھیل رہے تھے، ہمیں دھمکا رہے تھے اور اسلامی مزاحمت اور ہماری قوم کا مذاق اڑا رہے تھے، لیکن پھر مغرب کے وقت تمام کے تمام حالات اُلٹ گئے۔ واضح رہے کہ سال 2006ء سے حزب اللہ لبنان کے پاس موجود کشتی شکن میزائل C-802 اسرائیلی دشمن کے ایک پیشرفتہ ترین جنگی بحری بیڑے کو غرق کرچکا ہے اور تب سے ہی غاصب صیہونیوں کے لئے ایک سرپرائز کی حیثیت رکھتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 810788
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب