0
Wednesday 21 Aug 2019 10:12

برطانوی ایئرپورٹس پر سکیورٹی کے نام پر مسلمانوں کو روکنے کے واقعات

برطانوی ایئرپورٹس پر سکیورٹی کے نام پر مسلمانوں کو روکنے کے واقعات
اسلام ٹائمز۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے برطانیہ کے ایئرپورٹس اور بندرگاہوں پر مسلمان مرد و خواتین کو محض ان کے مذہبی عقائد کی بنیاد پر 6 گھنٹوں سے زائد تک روکنے اور ان سے مضحکہ خیز سوالات پوچھنے والے عملے کو ’اسلامو فوبیا‘ کا متاثرین قرار دے دیا۔ دی گارجین میں شائع رپورٹ کے مطابق کیج نامی تنظیم نے بتایا کہ اسلامو فوبیا میں مبتلا ائیرپورٹ حکام مسلمان خواتین کو اسکارف اتارنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق سال 2000ء سے اب تک صرف مسلمان مرد و خواتین کو ایئرپورٹس اور بندرگاہوں پر روکنے کے 4 لاکھ 20 ہزار واقعات ریکارڈ کئے گئے جبکہ گرفتاری کی شرح 0.007 فیصد رہی۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے 10 شہریوں کی وساطت سے اعلٰی پولیس حکام کو شکایت درج کرائی اور "برٹش مسلم" تنظیم کے ذریعے برطانوی وزیراعظم سے "شیڈول 7" قانون سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ دہشت گردی ایکٹ 2000ء کے شیڈول 7 کی بنیاد پر ایئرپورٹ کا تفتیشی عملہ بغیر کسی قابل ذکر جواز کے مسافروں کو غیرمعینہ وقت کے لئے روک کر تفتیش کر سکتا ہے۔

تنظیم کے ڈائریکٹر عدنان صدیقی نے اپنے مراسلہ میں لکھا کہ لاکھوں مسلمانوں کو بغیر کسی شبہ کے روک لیا جاتا ہے اور یہ عمل اسلاموفوفیا کا عکاس ہے، جسے ہراساں کے زمرے میں دیکھا جائے۔ لندن سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان نے بتایا کہ 2005ء کے بعد سے برطانیہ میں داخل ہوتے وقت انہیں مجموعی طور پر 40 مرتبہ ایئرپورٹ پر شیڈول 7 کے تحت روکا گیا اور ایک مرتبہ بھی کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ہر مرتبہ برطانیہ میں داخل ہوتے وقت حکام کے سوالات سے پریشان آچکا ہوں۔ ادھر کیمبریج یونیورسٹی کی 2004ء میں ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ ایئرپورٹ پر روکے گئے 88 فیصد لوگ مسلمان تھے۔ شیڈول 7 کے تحت روکے گئے بیشتر مسلمانوں نے بتایا کہ ایئرپورٹ کا سکیورٹی عملہ ان سے ان کے مذہب کے بارے میں سوالات کرتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 811798
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے