0
Friday 23 Aug 2019 01:34

عراق کا ایران سے اپنی ہوائی حدود کی حفاظت کی درخواست پر غور

عراق کا ایران سے اپنی ہوائی حدود کی حفاظت کی درخواست پر غور
اسلام ٹائمز۔ عراقی پارلیمانی کمیٹی برائے سکیورٹی و دفاع کے رکن "کریم العلیوی" نے "بغداد الیوم" کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ عراق اور اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائی حدود تقریباً ایک ہی جیسی ہیں جبکہ دونوں ممالک ایک جیسے ہی دشمن بھی رکھتے ہیں، لہذا عراق کی موجودہ فضائی سکیورٹی سروسز کو بہتر بنانے کے لئے ایران سے مدد لی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی، عراق کی فضائی حدود پر حاصل اپنی برتری کی وجہ سے، عراق کو اپنے ملک میں نیا ایئر ڈیفنس سسٹم درآمد کرنے نہیں دیتے، لہذا حال حاضر میں عراق کی فضائی حدود کی حفاظت کے لئے بہترین طریقہ ایران کے ساتھ فضائی حدود کی حفاظت کا معاہدہ کرنا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کی فضائی حدود ایک جیسی ہی ہیں جبکہ دونوں ممالک ایک جیسے ہی دشمن بھی رکھتے ہیں۔

کریم العلیوی نے کہا ہے کہ پورے خطے میں ایران ہی قوی ترین ایئر ڈیفنس سسٹم کا حامل ہے، جس کا منہ بولتا ثبوت امریکہ کے انتہائی پیشرفتہ اور ریڈار سے مخفی ڈرون طیارے کی ایرانی ایئر ڈیفنس سسٹمز کے ذریعے سرنگونی ہے۔ عراقی نیوز ایجنسی "بغداد الیوم" نے یہ خبر بھی دی ہے کہ "سردار مہدی ربانی" جو عراقی آرمی سٹاف کے وائس چیئرمین ہیں، نے عراقی فوج کی "ٹریننگ و آپریشنز" کے نائب چیئرمین "طارق البلداوی" سے ملاقات کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کیطرف سے ہوائی، زمینی، سمندری اور دفاعی سمیت تمامتر میدانوں میں عراق کو ممکنہ طور پر دی جانے والی فوجی مدد کی فراہمی پر ایران کی آمادگی سے آگاہ کیا ہے۔

عراقی نیوز ویب سائٹ "اسرار میڈیا" نے بھی عراقی پارلیمنٹ کے رکن کے ذریعے یہ خبر نشر کی ہے کہ عراق ایران کے ساتھ ایک سادہ سے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کے ذریعے عراقی فضائی حدود کی حفاظت کے لئے ایران کی دفاعی صلاحیتوں سے استفادہ کرسکتا ہے۔ اسرار میڈیا کے ذریعے نے یہ بھی بتایا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے عراقی فضائی حدود کی حفاظت کی خاطر مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے کیلئے عراق کیطرف سے واشنگٹن کے ساتھ کئے گئے اپنے اسٹریٹجک معاہدے سے دستبرداری کی شرط رکھی ہے۔

واضح رہے کہ عراقی پارلیمنٹ اور میڈیا ایک ایسے وقت میں عراقی فضائی حدود کی حفاظت کے لئے ایرانی دفاعی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی پیشکش کر رہے ہیں، جب تاحال عراقی حکومت نے اس بارے میں اپنے واضح موقف کو بیان نہیں کیا۔ دوسری طرف عراق اور ایران دہشتگردی کے خلاف ایک چار فریقی کمانڈ سنٹر جس میں روس اور شام بھی شریک ہیں، میں بہترین تعاون کر رہے ہیں اور ان چار ممالک کا باہمی تعاون خطے میں سے دہشتگردی کی جڑوں کو نکال پھینکنے میں انتہائی موثر بھی ثابت ہوا ہے جبکہ عراق نے آخری کچھ سالوں کے دوران ایران سمیت دنیا کے بعض ممالک کے ساتھ مختلف قسم کے فوجی تعاون کا اعلان بھی کیا ہے، جو کئی ایک مقامات پر امریکہ کیطرف سے پریشانی کے اظہار کا سبب بھی بنا ہے۔
خبر کا کوڈ : 812147
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے