0
Sunday 25 Aug 2019 00:40

اقوام متحدہ کے سيکریٹری جنرل کی کشمير کا معاملہ بھارتی وزيراعظم سے اٹھانےکی يقين دہانی

اقوام متحدہ کے سيکریٹری جنرل کی کشمير کا معاملہ بھارتی وزيراعظم سے اٹھانےکی يقين دہانی
اسلام ٹائمز۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو فون کرکے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات چیت کی جس پر انٹونیو گوٹیریز نے مقبوضہ کشمير کا معاملہ بھارتی وزير اعظم سے ملاقات ميں اٹھانے کی يقين دہانی کرا دی۔ شاہ محمود قریشی نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریز کو فون کرکے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کی اور وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔ یو این سیکرٹری جنرل نے شاہ محمود سے کہا کہ وہ پیرس میں ہیں اور مودی سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرا کردار جاری رہے گا، لیکن بھارت آمادہ نہیں ہوتا۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ میں نے سیکرٹری جنرل سے کہا ہم سے تو پرامن رہنے کا کہا جا رہا ہے، لیکن دوسری طرف کشمیر میں کرفیو کا 20واں روز ہے، اقوام متحدہ کے دفتر جانے کی کوشش پر کشمیریوں پر شیلنگ ہوئی اور تشدد کیا گیا، کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی اقدام یو این چارٹر کے منافی ہے اور پاکستان پانچ اگست کے اس اقدام کو مسترد کر چکا ہے، میں نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو کشمیر کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود جا کر حالات دیکھیں اور  سلامتی کونسل کے پانچ ممبر ممالک کو صورتحال کی نزاکت سے آگاہ کریں، یو این سیکرٹری جنرل بیان دیں گے تو اس کا اثر ہوگا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیرکے دو فریقوں پاکستان اور کشمیریوں نے اپنا واضح موقف پیش کیا ہے، لیکن تیسرے فریق بھارت میں رائے تقسیم ہو چکی ہے، اس کا مظاہرہ آج سرینگر ایئرپورٹ پر دیکھنے کو ملا، مودی سرکار نے سرینگر سے راہول گاندھی کو واپس دہلی بھیج دیا، یہ فسطائیت کی بدترین مثال ہے، دنیا دیکھے بھارتی حکومت اپنے ہی لوگوں کیساتھ کیا سلوک کر رہی ہیں، جو اپنے کیساتھ بیٹھنے کیلئے تیار نہیں ہمارے ساتھ کہاں بیٹھیں گے؟، آج بہت بڑا طبقہ مودی سرکار کو مسترد کر رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہوں نے یو این سیکرٹری جنرل کی توجہ بھارت کی جانب سے کلسٹر بموں کے استعمال کی جانب بھی مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بھارت پلواما جیسا ڈرامہ کرنے کی کوشش کر رہا ہیں، اقوام متحدہ کشمیریوں کی جانوں کے تحفظ اور کرفیو اٹھانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے، اس کا فرض ہے جغرافیائی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بنے، عالمی برادری نے مایوس کیا تو کشمیری مزاحمت کیلئے ہر حربہ استعمال کریں گے۔

واضح رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے دن سے تاحال غیر معینہ مدت تک کے لیے کرفیو نافذ کر رکھا ہے اور اس دوران شہریوں کو بنیادی اشیائے صرف کی قلت کا سامنا ہے جبکہ سیاسی قیادت کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
خبر کا کوڈ : 812508
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب