0
Thursday 12 Sep 2019 13:05

خیبر پختونخوا حکومت کا معذور کان کنوں کو فی کس 3 لاکھ روپے دینے کا اعلان

خیبر پختونخوا حکومت کا معذور کان کنوں کو فی کس 3 لاکھ روپے دینے کا اعلان
اسلام ٹائمز۔ صوبہ خیبر پختونخوا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کان کنی میں معذور ہونے والے مالاکنڈ ڈویژن کے 49 افراد کی مالی معاونت کیلئے 3 لاکھ روپے فی کس دیئے جانے کا اعلان کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کان کنوں کے بارے میں ان خیالات کا اظہار وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی خان نے تقریب تقسیم آفر لیٹرز سوات ریجن میں خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مقامی افسران، کان کنوں اور مشران کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ امجد علی خان نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں معدنیات کے بیش بہا ذخائر موجود ہیں جن سے مستفید ہو کر پورے ملک اور قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، اس لئے قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود عوام کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی سطح پر محکمہ معدنیات میں میرٹ کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی، ایسا کرنے والے ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی خان نے کہا کہ معدنی وسائل پر پہلا حق مقامی افراد کا ہے، اس لئے کان کنی کے عمل میں مقامی افراد کو ترجیح دی جائے گی اور یہی صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کا منشور ہے۔ تقریب کے بعد کان کنوں نے مالی امداد کے اعلان پر خوشی کا اعلان کیا۔ یاد رہے کہ پاکستان میں کان کنوں کے ساتھ اکثر رونما ہونے والے حادثات کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ کان کنی کی نجی کمپنیوں کے پاس مناسب اوزار اور سیفٹی کی اشیاء نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے مزدوروں کو محنت بھی زیادہ کرنی پڑتی ہے اور ہر وقت جان سولی پر لٹکی ہوئی ہوتی ہے۔

اسوقت پورے ملک میں کان کنی کے شعبے سے وابستہ محنت کشوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ایک کان کن پورے مہینے میں زیادہ سے زیادہ کام کی صورت میں بھی اوسطً 16 سے 18 ہزار روپے بناتا ہے اور زیادہ تر کان کن اپنے خاندانوں کی واحد کفیل ہیں۔ ان محنت کشوں کی اکثریت غربت اور بیروزگاری سے تنگ آ کر کانوں کی شکل میں بنے موت کے کنوؤں میں جان گنوانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کان کنی کے شعبے میں محنت کشوں کی کوئی لیبر یونین نہیں ہے اور مالکان ان کو یونین بنانے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ کوئی مزدور اپنے حق کیلئے آواز بلند نہیں کر سکتا اور اگر کوئی اس طرح کرتا بھی ہے تو مالک اسے فوراََ نوکری سے فارغ کر دیتا ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے نہ صرف یہ کہ موجودہ متاثرین کو فوری ریلیف ملے گا بلکہ کان کے مالکان پر بھی ملازمین کی سیفٹی بڑھانے کیلئے دباؤ بڑھے گا۔
خبر کا کوڈ : 815772
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب