0
Thursday 12 Sep 2019 22:24
اسرائیلی وزیراعظم کے بیان پر سعودی عرب کا سخت مؤقف عالم اسلام کی ترجمانی ہے

نیتن یاہو کا مغربی فلسطین کو اسرائیل میں ضم کرنے کا بیان عالم اسلام کیلئے تشویشناک ہے، مفتی محمد نعیم

نیتن یاہو کا مغربی فلسطین کو اسرائیل میں ضم کرنے کا بیان عالم اسلام کیلئے تشویشناک ہے، مفتی محمد نعیم
اسلام ٹائمز۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس مفتی محمد نعیم نے کہا کہ امت مسلمہ کے اتحاد کے بغیر کشمیر و فلسطین کے مسائل حل نہیں ہوسکتے، نیتن یاہو کا مغربی فلسطین کو اسرائیل میں ضم کرنے کا بیان عالم اسلام کیلئے تشویشناک ہے، کشمیر ظلم پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی کا فائدہ اسرائیل مغربی فلسطین کو ضم کرکے اٹھانا چاہتا ہے، کشمیر اور فلسطین کے مسائل حل کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ میں علماء سے گفتگو کرتے ہوئے رئیس جامعہ مفتی محمد نعیم نے نیتن یاہو کے مغربی فلسطین کو اسرائیل میں ضم کرنے کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کا بیان مسلم حکمرانوں کی نااتفاقی اور خاموشی کا خمیازہ ہے جو عالم اسلام کیلئے شدید تشویش کا باعث ہے، اگر مسلم حکمران فلسطین پر پہلے سے جاری ظلم اور کشمیر میں بھارت کے حالیہ اقدام کیخلاف متحد ہوکر میدان میں آتے تو آج کسی کو بھی ایسابیان دینے کی جرات نہ ہوتی اور نہ ہی کشمیری مظلوم 35 دن سے کشمیر میں قیدیوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے۔

 انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ صرف پاکستان یا عربوں کا نہیں بلکہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے، ان مظلوم مسلمانوں کی داد رسی کا ذمہ ہر مسلمان پر ہے، اسرائیلی وزیراعظم کے بیان پر سعودی عرب کا سخت مؤقف عالم اسلام کی ترجمانی ہے دیگر مسلم حکمران کو بھی اس کیخلاف آواز بلند کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل، امریکا اور بھارت پوری دنیا میں مسلمانوں پر ظلم کرانے میں مصروف ہیں اور گریٹر اسرائیل اور مہا بھارت کے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد کررہے ہیں جبکہ عرب و عجم کے حکمران باہم تفرقات اور تقسیم میں مبتلا دکھائی دے رہے ہیں۔ مفتی محمدنعیم نے آئمہ مساجد سے اپیل کہ وہ جمعہ کے خطبات میں مسئلہ کشمیر و فلسطین کو اجاگر کریں۔
خبر کا کوڈ : 815880
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب