1
Tuesday 17 Sep 2019 01:37

سعودی عرب کے اندر یمنیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں کا تاریخی جائزہ

سعودی عرب کے اندر یمنیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں کا تاریخی جائزہ
اسلام ٹائمز۔ یمن کی فوج اور عوامی تحریک انصار اللہ گذشتہ چار سال سے سعودی اتحاد کی جانب سے مسلط کردہ ایک تباہ کن جنگ کیخلاف مزاحمت کر رہی ہیں، سعودی اتحاد کی اندھا دھند بمباری اور حملوں میں اب تک 91 ہزار سے زائد افراد جاں بحق جبکہ لاکھوں زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ یمن کا بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے، جس سے جزیرہ نماء عرب کے پہلے سے ہی غریب ترین ملک کو دنیا کے بدترین انسانی المیہ سے دو چار کر دیا ہے۔ تاہم مغرب خصوصاً امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی بھرپور سپورٹ کے باؤجود سعودی اتحاد یمن کو فتح کرنے میں نہ صرف ناکام رہے بلکہ اس کے جواب میں انصاراللہ تحریک پہلے سے مضبوط اور مضبوط تر ہوتی گئی۔ حالیہ مہینوں میں یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں نے سعودی عرب کے اندر متعدد اہم ترین فوجی اور آئل و گیس تنصیبات پر ڈرونز اور میزائل حملوں میں تیزی لائی ہے، جس کے بعد سے جنگ کا نقشہ یکسر تبدیل ہونا شروع ہوا ہے، سنیچر کے روز کیے گئے ایک بڑے ڈرون حملے کے بعد سعودی تیل اور گیس کی پیداوار کو آدھا کر دیا ہے اور عرب اتحاد ابھی تک سکتے کے عالم میں ہے۔ مئی 2019ء سے یمنی فورسز نے ڈرون اور میزائل آپریشن میں تیزی لائی ہے۔ جنگ کا نقشہ بدلنے والے ان آپریشنز کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے۔

14 مئی، 2019ء
انصار اللہ نے سعودی تیل تنصیبات پر پہلا ڈرون حملہ 14 مئی 2019ء کو کیا، جس کے بعد سعودی عرب نے بڑی پائپ لائن سے تیل کی پمپنگ روک دی، یمنی ڈرون نے سعودی دارالحکومت ریاض کے جنوب میں شمال مغربی پائپ لائن سے منسلک آرامکو کے سٹیشن کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔ بعد میں انصار اللہ تحریک نے سعودی جارح فوج کو واضح پیغام دیا کہ اگر جارحیت کا سلسلہ بند نہ ہوا تو یمنی فورسز سعودی عرب کے اندر اس طرح کے مزید آپریشنز یعنی ڈرون حملوں کیلئے تیار ہیں۔ اسی دوران یمن کے نائب وزیر اطلاعات فہمی الیوسفی نے جارح قوتوں کو خبردار کیا تھا کہ امریکی بیڑے سعودی اتحاد کو نہیں بچا سکتے، کیونکہ وہ ہمارے حملوں کی زد میں ہے، یمنی فوج جس کے پاس پہلے کلاشنکوف رائفل تک نہیں تھی، اب ڈرون بنا رہی ہیں، جس کی رینج سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تک ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنی سرزمین کی حفاظت کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں، حالیہ حملے یمن کی زمینی اور فضائی ناکہ بندی کے باؤجود ہماری فوجی پیشرفت کی تصدیق کرتے ہیں۔

12 جون، 2019ء
سعوددی اتحاد نے ملک کے جنوب مغربی صوبے عسیر میں بین الااقوامی ایئرپورٹ پر یمنی میزائل حملے کی تصدیق کر دی، سعودی اتحاد کا کہنا تھا کہ یمنی میزائل نے ایئرپورٹ کے داخلی ہال کو نشانہ بنایا، جس سے نقصان پہنچا۔

17 جون 2019ء
انصار اللہ تحریک اور اتحادی فورسز نے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا، ابہا سعودی عرب کے شمال مغربی صوبے عسیر کا دارالحکومت ہے، اس ایئر پورٹ سے دبئی، شارجہ، قاہرہ، دمام، جدہ اور ریاض کیلئے پروازیں جاتی ہیں۔

20 جون 2019ء
یمنی فورسز نے سعودی عرب کے جنوب مغربی صوبہ جیزان میں ایک پاور پلانٹ کو کروز میزائل سے نشانہ بنایا۔

2 جولائی 2019ء
یمنی فوج نے ایک بار پھر ابہا ایئرپورٹ پر فوجی جنگی طیاروں کے ہینگر کو میزائل سے نشانہ بنایا، یمنی ٹی وی چینل المسیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں متعدد لوگ زخمی بھی ہوئے۔

7 جولائی 2019ء
یمنی فورسز نے مقامی طور پر تیار کردہ پروں والے نئے میزائل اور دیگر فوجی سازوسامان کی رونمائی کی، ان میں مختلف میزائل کے علاوہ ڈرون بھی شامل تھے، صنعاء کا کہنا ہے کہ جدید ترین آلات طاقت کے توازن کو یمن کے حق میں بدل سکتے ہیں۔

یکم اگست 2019ء
یمنی مسلح افواج نے کہا کہ انہوں نے سابق فراری صدر منصور ہادی اور سعودی حکومت کی حمایت یافتہ اور وفادار ملیشیا کے ایک کیمپ پر ڈرون اور میزائل سے حملے کیے، جس کے نتیجے میں ایک کمانڈر سمیت درجنوں دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ ایک اور حملے میں یمن سے سینکڑوں کلومیٹر دور سعودی صوبے دمام میں ایک فوجی اڈے کو لمبے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔

2 اگست 2019ء
یمن کی مسلح افواج نے مقامی سطح پر تیار کردہ لانگ رینج میزائل ''برکان'' کی رونمائی کی۔

5 اگست 2019ء
یمنی عوام نے سعودی پورٹ سٹی دمام کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

17 اگست 2019ء
حوثی جنگجوؤں نے مشرقی سعودی عرب میں ایک ریموٹ آئل اینڈ گیس فیلڈ پر ڈرون حملہ کیا۔

25 اگست 2019ء
 یمنی فوج نے جنوب مغربی سعودی عرب میں ایک ہوائی اڈے اور ایئر بیس کو ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔

26 اگست 2019ء
یمنی فورسز نے ریاض میں اہم ترین فوجی ہدف پر صماد تین نامی ڈرون کے ایک سکوارڈن کے ذریعے حملہ کیا۔

14 ستمبر 2019ء
یمنی فوج نے دس ڈرونز کے ذریعے سعودی عرب کے سب سے بڑے آئل فیلڈ پر حملہ کیا، یہ اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ ہے، جس کے بعد سے اب تک سعودی عرب سکتے کے عالم میں ہے۔ حملے کے نتیجے میں سعودی عرب کی خام تیل اور گیس پیداوار کا پچاس فیصد بند ہوگیا ہے، دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کیلئے تیل کی فراہمی روزانہ تقریباً 57 لاکھ بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری جانب یمنی فوج نے ایک بار پھر غیر ملکیوں کو  خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی تیل تنصیبات سے نکل جائیں، کیونکہ سعودی جارحیت کا سلسلہ نہ رکا تو اس طرح کے مزید حملے ہوں گے۔
خبر کا کوڈ : 816572
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے