0
Tuesday 17 Sep 2019 20:50

مذاکرات کا امریکی مطالبہ سازش ہے، کسی سطح پر امریکہ سے مذاکرات نہیں کرینگے، آیت اللہ سید علی خامنہ ای

اس قسم کے مذاکرات کیلئے وہ انکے پاس جائیں جو انکے لئے دودھ دینے والی گائےکا کردار ادا کر رہے ہیں
مذاکرات کا امریکی مطالبہ سازش ہے، کسی سطح پر امریکہ سے مذاکرات نہیں کرینگے، آیت اللہ سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد اپنے درس خارج کے پہلے دن علمائے کرام سے خطاب کے دوران گذشتہ چار دہائیوں سے جاری دشمن کی سازشوں کے سامنے ایرانی عوام کے شعور کی داد دی۔ انہوں نے ایران کے خلاف امریکہ کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ" پر مبنی سیاست کیطرف اشارہ کرتے ہوئے امریکی حکومت کی جانب سے دوبارہ مذاکرات پر مبنی نئے مطالبے کو سازش کا پلندہ اور اپنی گستاخانہ خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم کی نظر میں امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ پر مبنی سیاست کی ذرہ برابر اہمیت نہیں جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام اور تمامتر حکام نے یک زبان ہو کر یہ اعلان کیا ہے کہ امریکہ کیساتھ کسی سطح پر مذاکرات نہیں کریں گے۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کیطرف سے اختیار کردہ اسلامی موقف پر مبنی قابل فخر رستے کیساتھ، کھوکھلے مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے حامیوں کیطرف سے بھرپور مخالفت اور گہری دشمنی کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جتنی دشمنی کرسکتے تھے، انہوں نے کر لی ہے، لیکن بحول و قوۃ الہیٰ ان کی یہ دشمنیاں کسی نتیجے تک نہیں پہنچیں اور نہ ہی پہنچیں گی، جبکہ ایرانی قوم اپنے تمامتر دشمنوں بالخصوص امریکہ پر ضرور فتحیاب ہوگی۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ کیطرف سے اختیار کردہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی سیاست کی ناکامی کے خود امریکی اعتراف کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے امریکی مطالبے کا مقصد یہ ہے کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لا کر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ایران کیخلاف ان کی اختیار کردہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی سیاست کامیاب ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دشمن نے یہ ثابت کر دکھایا کہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی ان کی پالیسی کامیاب ہوگئی ہے تو پھر ایرانی قوم کبھی سکھ کا سانس نہ لے پائے گی، کیونکہ تمامتر امریکی مستکبرانہ پالیسیوں کے پیچھے پھر یہی سیاست کارفرما ہوگی، جبکہ اس کے بعد وہ جس چیز کا بھی مطالبہ کریں گے، ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ امریکی حکام کبھی کہتے ہیں کہ کسی بھی پیشگی شرط کے بغیر مذاکرات کیلئے تیار ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ مذاکرات کیلئے 12 شرائط ہیں، جبکہ ان کے یہ بیانات یا تو ان کی زبوں حال سیاست کا نتیجہ ہیں یا وہ اس کے ذریعے مدمقابل کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں کہ البتہ اسلامی جمہوریہ ایران گمراہ نہیں ہوسکتا، کیونکہ ہمارا رستہ روشن ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔

انہوں نے مذاکرات کے نئے امریکی مطالبے کا مقصد عادلانہ راہ حل تلاش کرنے کے بجائے اپنی گستاخانہ خواہشات منوانا قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں اس قبل ازیں بھی یہ کہہ چکا ہوں کہ مذاکرات پر مبنی امریکی مطالبے کا مقصد اپنی خواہشات منوانا ہے، جبکہ اب تو وہ بھی اس قدر گستاخ ہوچکے ہیں کہ علی الاعلان یہ کہہ رہے ہیں کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر بٹھا کر فلاں فلاں مطالبات رکھے جائیں اور ایران انہیں قبول کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکیوں کو چاہیئے کہ اس قسم کے مذاکرات کیلئے وہ ان کے پاس جائیں، جو انکے لئے دودھ دینے والی گائے کا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران، مومنین، مسلمین اور عزتمند انسانوں کا ملک ہے۔
خبر کا کوڈ : 816782
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے