0
Wednesday 18 Sep 2019 15:37

یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ یمن پر سب سے پہلے کس ملک نے بمباری کی تھی، اردوغان

یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ یمن پر سب سے پہلے کس ملک نے بمباری کی تھی، اردوغان
اسلام ٹائمز۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے سعودی تیل کی تنصیبات پر یمنی جوابی کارروائی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ یمن پر سب سے پہلے کس ملک نے فوجی کارروائی کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ترکی کے صدر نے میڈیا سے گفتگو کے دوران یمن پر سعودی-امریکی اتحاد کیطرف سے مسلط کردہ جنگ کے بارے میں کہا ہے کہ یمن میں فی الفور تعمیراتی کام کا آغاز ہو جانا چاہیئے، کیونکہ یہ ملک اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں۔ آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک یمن، شام اور فلسطین میں موجود بحران کے بارے میں کیا کر سکتے ہیں، جبکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج مسلمان ہی مسلمانوں کیساتھ جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ یمن پر سب سے پہلے بمباری کس ملک نے کی تھی، تاکہ ہمیں معلوم ہوسکے کہ یمن کا بحران کہاں سے شروع ہوا۔

واضح رہے کہ قبل ازیں یمنی اسلامی مزاحمتی تحریک انصار اللہ نے سعودی مشرقی صوبوں "بقیق" اور "ہجرۃ خریص" میں واقع سعودی تیل کی تنصیبات پر ہونیوالے کامیاب ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔ سعودی مشرقی صوبہ "بقیق"، شہر الدمام کے جنوب میں 75 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک اہم علاقہ ہے، کیونکہ سعودی تیل کی کمپنی "آرامکو" کی اہم ترین تنصیبات اسی صوبے میں واقع ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کو تشکیل دیتی ہیں۔ یاد رہے کہ 26 مارچ 2015ء سے سعودی عرب نے اپنے فوجی اتحاد اور بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کی مدد سے یمن کے مستعفی سابقہ صدر کی حکومت کو بچانے کے بہانے سے یمن پر بڑے پیمانے پر حملہ کر دیا تھا، جس کی وجہ سے تاحال لاکھوں بیگناہ یمنی شہری شہید و زخمی ہوچکے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 816905
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب