0
Wednesday 18 Sep 2019 20:55

حبیب طاہر کی رہائی کو کلبھوشن یادو سے مشروط کرنا بھارتی افواہیں ہیں، دفتر خارجہ

حبیب طاہر کی رہائی کو کلبھوشن یادو سے مشروط کرنا بھارتی افواہیں ہیں، دفتر خارجہ
اسلام ٹائمز۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا دعویٰ کر رہا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) حبیب طاہر بھارت کے زیر حراست ہیں اور ان کی رہائی کو بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی رہائی سے مشروط  کیا جا رہا ہے۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کرنل ریٹائرڈ حبیب طاہر کی بھارت میں زیرِ حراست ہونے اور معاملے کو کلبھوشن یادیو سے جوڑنے کے حوالے سے بھارتی میڈیا میں افواہیں سامنے آئی ہیں، بھارتی میڈیا کی طر ف سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) حبیب بھارت کے زیر حراست ہیں اور لیفٹیننٹ کرنل (ر) حبیب کی رہائی کو کمانڈر یادیو کی رہائی سے مشروط کیا جا رہا ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ حبیب طاہر پاک فوج سے ریٹائرڈ ہیں اور اپریل 2017ء میں نوکری کے لیے نیپال گئے جہاں سے لاپتہ ہوئے، خود ان کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ حبیب طاہر نے اپنی سی وی اقوام متحدہ اور لنکڈن پر ڈالی تھی اور کرنل حبیب کو مارک نامی شخص نے کال کر کے نوکری کیلئے منتخب ہونے کی اطلاع دی۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ حبیب طاہر کو انٹرویو کیلیے نیپال جانے کی پیشکش کی گئی، انہیں 6 اپریل 2017ء کو لاہور سے اومان اور اومان سے کھٹمنڈو کا ٹکٹ دیا گیا، کرنل حبیب زندگی میں پہلی مرتبہ کٹھمنڈو نیپال گئے تھے اور انہوں نے کٹھمنڈو ائیرپورٹ سے اپنے اہلخانہ کو اپنی اور بورڈنگ پاس کی تصاویر واٹس ایپ کیں۔ اہلخانہ کے مطابق کرنل حبیب نے لمبینی ائیرپورٹ سے اپنی بیوی کو میسیج کیا کہ وہ خیریت سے ہیں، لمبینی ائیرپورٹ بھارتی سرحد سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، اس پیغام کے بعد ان کا موبائل بند ہو گیا، تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مارک کا برطانوی موبائل نمبر جعلی تھا، اور یہ موبائل نمبر کمپیوٹر سے بنایا گیا تھا اور جس ویب سائٹ سے ان سے رابطہ کیا گیا تھا وہ بھارت سے کنٹرول ہو رہی تھی، حکومت نیپال نے ان کے لئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی مگر اس کے خاطر خواہ نتائج نہ آ سکے۔
خبر کا کوڈ : 816966
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب