0
Thursday 19 Sep 2019 12:17
سعودی مظالم پر امریکی بھی بلبلا اٹھے!

سعودیہ یمن میں عام شہریوں کا قتل عام کر رہا ہے، انصاراللہ کیخلاف امریکہ کو ہرگز مداخلت نہیں کرنی چاہیئے، کرس مرفی

آرامکو پر انصاراللہ کا جوابی حملہ، یمن کی "ذمار" جیل پر سعودی حملے کا جواب تھا
سعودیہ یمن میں عام شہریوں کا قتل عام کر رہا ہے، انصاراللہ کیخلاف امریکہ کو ہرگز مداخلت نہیں کرنی چاہیئے، کرس مرفی
اسلام ٹائمز۔ امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ہم نے سعودی عرب کیساتھ کوئی مشترکہ دفاعی معاہدہ نہیں کر رکھا اور نہ ہی ہمیں ایسا ظاہر کرنیکی کوئی ضرورت ہے۔ کرس مرفی نے کہا کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات اور آئل کمپنی "آرامکو" پر حملہ، سعودی عرب کیطرف سے یمن کی "ذمار" جیل پر ہوائی حملے کے بعد کیا گیا، جس میں 100 سے زائد یمنی شہری جانبحق ہوگئے تھے۔ یمن کی بحرانی اور ناگفتہ بہ حالت سعودی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر اور سینیٹ کی فارن ریلیشن کمیٹی کے رکن کرس مرفی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں مزید لکھا کہ میں ان کچھ پیغامات میں کوشش کروں گا کہ یمن میں موجود صورتحال کی عکاسی کر سکوں۔

یمن اور سعودی عرب کے درمیان جھگڑا، سعودی عرب کے وجود میں آنے کے دن، 1932ء سے ہی شروع ہوگیا تھا، جب زمینی سرحد کے ایک تنازعے میں تازہ وجود میں آنیوالی سعودی بادشاہت نے یمن کے ایک سرحدی علاقے پر قبضہ کرکے اسے سعودی عرب کا حصہ بنا دیا۔ تب سے لیکر آج تک سعودی اس کوشش میں رہے ہیں کہ یمن کے تمامتر امور میں اپنا اثرونفوذ پیدا کریں۔ انصار اللہ، یمن کے شمالی شیعہ قبائل کا ایک گروہ ہے، جو اسلام کی منفرد شکل "زیدیہ" پر عمل پیرا ہیں۔ سعودی عرب نے 80 کی دہائی میں انصاراللہ کے علاقوں میں وہابیت کو رواج دینے کیلئے ایک کمپین شروع کی اور زیدیوں کو کمزور کرنے کیلئے انصاراللہ کے علاقوں میں اپنے وہابی باشندوں کو بھیجنا شروع کر دیا۔

دوسری طرف سعودیوں اور یمن پر مسلط ان کی کٹھ پتلی حکومت کیخلاف یمنی دارالحکومت میں انصاراللہ کی مزاحمت روز بروز بڑھتی گئی۔ یمن پر مسلط سعودی عرب کی کٹھ پتلی حکومت نے 2000ء کے پہلے عشرے میں انصاراللہ کے خلاف 6 مختلف جنگیں لڑیں جبکہ سابقہ امریکی صدر بش ان جنگوں کے خلاف تھے، جن کا یہ خیال تھا کہ انصاراللہ کے ساتھ یہ مقابلہ فائدے سے زیادہ نقصان کا حامل ہے، خاص طور پر جب انصاراللہ نے ایران سے امداد کے حصول کیلئے اپنے رابطے بڑھانا شروع کر دیئے۔ ان جنگوں میں انصاراللہ کی فوجی طاقت بڑھتی گئی اور بالآخر سن 2010ء میں وہ یمن کی تجربہ کار فوج میں تبدل ہوگئی۔ انصاراللہ نے سال 2015ء میں یمن کے دارالحکومت صنعاء میں کامیاب آپریشنز کئے جبکہ دوسری طرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی انصاراللہ کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگ کا آغاز کر دیا۔

سال 2015ء سے شروع ہونیوالی اس جنگ میں لاکھوں یمنی شہری مارے جا چکے ہیں جبکہ لاکھوں یمنی بچے جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی قحط سالی اور وبائی بیماریوں کے باعث جاں بحق ہوگئے۔ یمن کے پانی صاف کرنیکے پلانٹس کی (سعودی بمباری میں) تباہی کے بعد سے وہاں دنیا کی بدترین وبائی امراض پھوٹ پڑی ہیں جبکہ ایسی صورتحال میں سعودی عرب ان کے ہسپتالوں اور سکول بسوں پر بم برسا رہا ہے۔ خلاصہ یہ کہ یمن پر مسلط کردہ جنگ، کرۂ ارض پر ہونیوالی وحشتناک ترین جنگ ہے۔ دوسری طرف وقت گزرنے کیساتھ ساتھ امداد دریافت کرنیکے لئے ایران کیساتھ انصاراللہ کے روابط میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ انصاراللہ کیساتھ ایران کا رابطہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کی سطح پر نہی،ں لیکن ہر گزرتے دن کیساتھ انصاراللہ کے اندر ایران کا اثرونفوذ بڑھتا جا رہا ہے۔

پھر وہ مرحلہ آیا جب انصاراللہ نے سعودی سرحدوں کے اندر آ کر جوابی حملے کرنے شروع کر دیئے۔ سعودی آئل ریفائنری پر ہونیوالا تازہ ترین حملہ، سعودی عرب کیطرف سے یمن کی "ذمار" نامی جیل پر ہونیوالے ہوائی حملے کے بعد انجام دیا گیا ہے، جس میں 100 یمنی شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔ خلاصہ یہ کہ اس آشفتہ صورتحال کا بیج خود سعودیوں نے بویا ہے۔ یہ سعودی ہی تھے جنہوں نے 1980ء کی دہائی سے لیکر 2000ء تک یمن کے اندر حوثیوں کو دیوار سے لگا کر رکھا اور پھر 2015ء میں کھلم کھلا جنگ کے دوران یمن کیخلاف جرائم کی تمامتر حدیں توڑ ڈالیں۔ واضح الفاظ میں یہ کہ سعودی تیل کی تنصیبات پر ہونیوالا ڈرون حملہ کہیں سے بھی کیا گیا ہو، اس انتہائی نازک خطے میں، سعودی عرب اور ایران کے درمیان شارٹ یا لانگ ٹرم تناؤ میں امریکہ کیطرف سے کسی صورت اضافہ نہیں کیا جانا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 817085
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب