0
Thursday 19 Sep 2019 16:59

سندھ کے اسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین موجود نہیں ہے، حلیم عادل شیخ

سندھ کے اسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین موجود نہیں ہے، حلیم عادل شیخ
اسلام ٹائمز ۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر اور رکن صوبائی اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ سندھ کے اسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین موجود نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ سکرنڈ میں ویکسین سینٹر قائم کرنے کیلئے 4 کروڑ خرچ کئے گئے، 500 ویکسین تیار پڑی ہیں اٹھائی نہیں گئی، اکیس اگست کو اسمبلی میں کہا تھا کہ لاڑکانہ میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین نہیں ہے، بات سنی نہیں گئی اور ایک بچہ انتقال کرگیا۔ حلیم عادل شیخ کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں سیکشن 420 رائج ہے، کتے کی ویکسین غریب میر حسن کو نہیں ملی، وزیراعلیٰ سندھ جھوٹ بولتے ہیں، میں نے خود متوفی بچے میر حسن کے والد سے بات کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بچے کو ہسپتال لے کر گئے تھے لیکن ویکسن نہیں ملی، جب عوام کی بات ہوتی ہے تو مکیش کمار چاولہ اس کی مخالفت کرتے ہیں، کسی چور ظالم کی بات کی جاتی ہے تو بول پڑتے ہیں۔

نمرتا کماری کی ہلاکت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں ڈاکٹر نمرتا کے گھر بھی جاؤں گا، وائس چانسلر کون ہے اور کس نے لگایا ہے؟ بی بی آصفہ کے نام پر کالج بنا ہوا ہے، اس نام کی کچھ تو لاج رکھ لیتے، سندھ میں ستر فیصد ایمبولینس ڈاکٹرز کے گھروں میں چل رہی ہیں جنہیں سرکاری خزانے سے پیٹرول مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ قصور کے واقعے بعد وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی کو کہوں گا کہ ن لیگ نے جو غنڈے پولیس میں بھرتی کئے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کریں، واقعہ کہیں پر بھی ہو تو افسوس ہوتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 817154
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب